سوال 6756
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم اگر والد نے اسٹیٹ لائف میں انشورنس کروائی ہو تو جو رقم ملے اس میں سے بھی اولاد کا حصہ ہوگا کیا، اگرچہ انشورنس حرام ہے؟
جواب
ہمارے نزدیک اس مسئلے میں اصول یہ ہے کہ جب اولاد والدین کے ماتحت ہو تو اس پر کوئی سختی نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش آ جائے تو اس کا وبال والدین پر ہوتا ہے، اولاد بری الذمہ ہوتی ہے۔ البتہ عزیمت اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جب اولاد خود اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے تو پھر اعتماد اور وضاحت کے ساتھ فیصلہ کرے۔ اگر اس مسئلے میں یہ بات سمجھ میں آ جائے یا فتویٰ مل جائے کہ یہ رقم جائز نہیں ہے تو اسے خود استعمال کرنے کے بجائے اس کے صحیح مصرف تک پہنچانا چاہیے۔
تاہم ہم اس معاملے میں کسی قسم کی سختی کا قائل نہیں، کیونکہ جب تک اولاد والدین کے ساتھ ہے یا نابالغ ہے، وہ انہی کی ماتحتی میں شمار ہوتی ہے۔ اللہ نہ کرے اگر اس راستے میں کوئی وبال ہو تو وہ انہی لوگوں پر ہوگا جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا، اولاد اس سے محفوظ اور بری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




