سوال (5435)

جاز کیشں والے ایک فائدہ دے رہے ہیں آپ نے سالانہ ان کو 3000 روپے دینے ہیں وہ اس کے بدلے کچھ ہسپتال انہوں نے مخصوص کیے ہیں وہاں ڈاکٹر سے چیک اپ اور دوائی اور علاج فری ہوگا، آج کل کے دور میں دوائی لینا ہی بہت مشکل یے۔ اور پھر جس نے سوال پوچھا ہے وہ اتنی میڈیسن پرائیویٹ نہیں لے سکتا۔
اس لئے کیا ان سے یہ میڈیکل سہولیات لی جا سکتی ہیں، انکو سالانہ پیسے دینے بس باقی اس سال کے اندر اندر کوئی میڈیکل مسئلہ بنے تو فری ہوگا؟ رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللّہ

جواب

یہ انشورنس اور بیمہ پالیسی کی ایک شکل ہے، میڈیکل انشورنس آج کل کمپنیوں میں بھی چلا ہوا ہے، اس پر لوگوں نے فتوے لیے ہوئے ہیں، بہرحال آج کل دور حاضر کے تکافل اور انشورنس کو حاصل کرنا ربا ہے، یہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

پیارے بھائی آپ خود غور کریں کہ جب وہ بندہ خود ایک ماہ میں تین ہزار میں اپنا خرچہ پورا نہیں کر سکتا تو وہ کمپنی والے کیسے کرتے ہوں گے یاد رکھیں کمپنی والوں کو اگر نقصان ہوتا تو وہ کبھی آپ کو یہ سہولت نہیں دیتے تو سوچیں انکو فائدہ کیسے ہوتا ہو گا۔
میں تو اس شعبے کو اچھی طرح جانتا ہوں انکو فائدہ ایسے ہوتا ہے کہ وہ سو لوگوں سے تین ہزار لیتے ہوں گے اور کل تین لاکھ اکٹھے کر لیتے ہوں گے اس میں سے ایک لاکھ اپنا خرچہ منافع رکھ لیتے ہوں گے اور باقی دو لاکھ علاج پہ خرچ کرتے ہوں گے وہ ایسے کہ سو میں سے پورے مہینے میں صرف دس بیمار ہوتے ہوں گے وہ ان دس کا علاج کروا دیتے ہوں گے اب چونکہ انہوں نے نوے بندوں کو نقصان دے کر دس بندوں کو فائدہ دیا تو یہی تو جواب ہے اسی کو وہ انشورنس کے نام سے چلاتے ہیں پس یہ حرام ہے۔

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ