سوال (6184)
ایک بھائی کا سوال ہے کہ میری بیوی حاملہ ہے اور ہسپتال میں داخلے کے بہت پیسے ہیں یا آپریشن کے جو میں برداشت نہیں کرسکتا۔ تو میرا جاز کیشں اور ایزی پیسہ بنا ہے وہ کہہ رہے کہ آپ نے صرف سالانہ 2000 روپے ہمیں دینے ہیں۔ بس اس صورت میں آپکی بیوی اگر ہسپتال میں داخل ہوتی یے تو اس کے علاج اور آپریشن کا خرچ ہم برداشت کریں گے، تو کیا یہ درست ہے۔ کہ ناجائز ہے یہ عمل؟ قرآن حدیث کی روشنی سے رہنمائی فرما دیں۔
جواب
پیارے بھائی پہلی بات کہ یہ انشورنس ہے جو کہ اسلام میں حرام ہے یہ شرعی جواب تھا۔
دوسری بات کہ یہ دنیاوی لحاظ سے بھی اتنا آسان نہیں جیسا آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ آج اگر ایک سال کے لئے دو ہزار دے دیں تو تین چار ماہ بعد آپ کی بیوی کی ڈیلوری پہ بیس تیس ہزار خرچ آ جائے تو وہ آپ کو وہ خرچ نہیں دیں گے اس کے لئے بہت طریقے ہوتے ہیں انکے پاس۔ پس دنیاوی لحاظ سے بھی آپ کو کسی دوسرے بندے سے تجربہ پوچھ لینا چاہئے کیونکہ اس طرح تو جس کا حمل ہو وہ جا کر دو ہزار دے کر انشورنس کروا دے اور پھر بعد میں ایک سال کے اندر خرچہ لے لے اور بعد میں انشورنس ہی نہ کروائے۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
انشورنس ناجائز ہے، خواہ وہ جاز کیش کے تھرو ہو یا جیسے بھی ہو، قدیم و جدید طریقہ یا آپ نے جو لکھا ہے، یہ سب ربا اور غرر کا مجموعہ ہے، اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں، اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہیں، اگر ایسے حالات ہیں تو آپ زکاۃ بھی لے سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




