سوال     6664

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اقامتِ دین کا مقصد اللہ کا نظام زمین پر قائم کرنا ہے، جبکہ فرد صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کر رہا ہے۔ اس صورت میں کیا ایسے فرد کی بخشش ممکن ہے یا اس کے لیے اقامت دین کی شرط بھی لازم ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
قرآن و سنت کا اصول بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه…»

یعنی مومن کو ایسی آزمائش میں خود کو نہیں ڈالنا چاہیے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔
اسی اصول کی روشنی میں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اقامتِ دین کوئی الگ خود ساختہ منہج یا نیا طریقِ کار نہیں۔ دین ہمیں صحابہ کرامؓ، تابعین، اور جمہور اہلِ علم سے ملا ہے۔ اس کے برعکس اگر اقامتِ دین کی ایسی تشریح کی جائے جس میں اہلِ اقتدار کے خلاف مزاحمت، خروج یا بغاوت کی بو آئے یا عملاً وہ بغاوت ہی ہو تو یہ شرعی طریقہ نہیں۔
جن شخصیات کے نام اس باب میں لیے جاتے ہیں، انہوں نے عملاً کیا کیا؟ زیادہ تر نعرے، خطابات اور تحریریں نظر آتی ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات کیا تھے؟ یہ سوال بھی بہرحال قائم رہتا ہے۔ محض اقامتِ دین کے نعرے لگانا، جبکہ عقیدہ و منہج واضح اور درست نہ ہو، قابلِ قبول نہیں۔ کہیں حلولی افکار ہیں، کہیں شہودی رجحانات، کہیں صحابہؓ کی گستاخی تو ایسے نعروں سے متاثر ہونا درست رویہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ واضح ہے: ایمان صحیح اور عملِ صالح پر خلافت عطا کی جاتی ہے۔ اسلامی نظام محض تحریکیں چلانے سے، نعرے لگانے سے، یا اکثریت و پارلیمنٹ کے فارمولوں سے قائم نہیں ہوتا۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عقیدے، عبادات اور عملِ صالح کی اصلاح کرے۔
اگر کبھی واقعی کوئی صحیح اسلامی نظام قائم ہوتا ہے، تو اس کے تقاضے ایک الگ بحث ہوں گے۔ فی الحال جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ زیادہ تر زبانی جمع خرچ ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو بغاوت پر ابھارا اور ان کی راہ کو ٹیڑھا کیا جاتا ہے۔
درست اور محفوظ راستہ یہی ہے کہ قرآن و سنت کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق اختیار کیا جائے، عقیدے اور عمل میں اخلاص ہو، اور اسی پر ثابت قدمی اختیار کی جائے۔ اسی کو ہم پوری شرحِ صدر کے ساتھ حق سمجھتے ہیں۔
اور ہم شرحِ صدر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسحاق صاحب بھی گمراہ تھے، ڈاکٹر اسرار بھی گمراہ تھے، مولانا مودودی بھی گمراہ تھے، ساحل عدیم بھی گمراہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ