سوال 6985
جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے سامنے ان کی تعریف کی جاتی تو فرماتے: ”واللہ، میں تو ہر وقت اپنے اسلام کی تجدید کرتا رہتا ہوں، اور میں ابھی تک اچھا مسلمان نہیں بن پایا۔“
[مدارج السالكين: ٢٠٠/٢]
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس پر عمل کرنا کیسا ہے؟ اشکال یہ ہے کہ سائل کہتا ہے کہ یہ عمل خیر القرون سے ثابت نہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ثابت ہو یا نہ ہو، کسرِ نفسی کے اعتبار سے کوئی بھی اچھا آدمی اسی طرح کا ردِعمل ظاہر کرتا ہے، اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟
نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہے، لیکن آپ نے کیا فرمایا؟
“رحم اللہ موسیٰ، لقد اوذی فی اللہ اکثر منی فصبر”
یعنی اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، مجھے تو اللہ کی راہ میں اس سے زیادہ اذیت نہیں دی گئی حالانکہ کیا واقعی ایسا تھا؟ نہیں تھا نہ، یہ کسرِ نفسی تھی۔ اسی طرح فرمایا کہ اگر یوسف علیہ السلام کی جگہ میں ہوتا،
“لاَجَبْتُ الدَّاعِی”
تو میں بلانے والے کی بات پر لبیک کہتا، تو کیا ایسا تھا؟ نہیں نہ، یہ بھی کسرِ نفسی ہے۔
لہذا کوئی چیز ثابت ہو یا نہ ہو، کسرِ نفسی کے طور پر انسان ایسی بات کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے دائرے میں ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



