سوال (3988)
کیا استعمال ہونے والے سونے کے زیورات پر زکاۃ ہے، اگرچہ وہ نصاب سے کم ہوں۔
جواب
سونے کا نصاب بیس دینار ہے، جو کہ ساڈھے سات تولے بنتا ہے، سونا آپ کے پاس اگر ساڈھے سات تولہ ہے، جس کے آپ مالک ہیں، خواہ کسی بھی شکل میں ہو، آپ کو اڈھائی پرسنٹ زکاۃ دینی ہوگی، اختلاف تو ہر کسی مسئلے میں ہو سکتا ہے، لیکن راجح قول یہ ہے کہ زیورات، ڈلی اور ہر قسم کے سونے پر زکاۃ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ نصاب کو پہنچے، باقی جو کنگن والی حدیث ہے، ان احادیث کو ایک طرف کرکے دیکھا جا رہا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ وزن پورا تھا، کچھ اس کے علاؤہ کہتے ہیں، بس قیاس آرائی اور تخمینے ہیں، یہ ایسے ہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر یہ نصاب کو پہنچ جائیں، یعنی اس کے علاؤہ بھی سونا ملائیں ، پھر زکاۃ ہوگی، بالی، کنگن والی احادیث کو وہیں لے جایا جائے گا کہ دوسرے سونے کے ساتھ ملا کر اگر نصاب کو پہنچ جائے تو زکاۃ ہے، نصاب ایک اصول دے دیا گیا ہے، اگر نصاب کو پہنچ جائے تو زکاۃ دے دی جائے گی، باقی اگر نصاب سے کم ہے، کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کچھ دینا چاہتا ہے تو دے دے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کیا استعمال ہونے والے زیورات پر زکواۃ ہو گی یا نہیں راجح موقف کی طرف راہنمائی فرمائیں؟
جواب: ہمارا تو موقف یہی ہے کہ سونا کسی بھی شکل میں ہو۔ اگر وہ نصاب کو پہنچے گا اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ نصاب کو پہنچنے کے بعد زکوٰۃ اسٹارٹ ہو جائے گی جتنا بڑھتا جائے گا زکوٰۃ بڑھتی جائے گی۔ کامن سی بات ہے اگر آپ اس کو مستثنیٰ کر دیتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے تو پھر ظاہر سی بات ہے لوگ اس طرح ذخیرہ اندوزی کریں گے۔
اور قرآن کہتا ہے:
“وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ”۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




