سوال (4456)
استخارہ کا طریقہ کیا ہے۔ کس وقت کرنا چاہیے، کیا روزانہ استخارہ کرنا صحیح ہے یا نہیں، استخارہ کس چیز کے لیے کرنا صحیح ہے.
جواب
استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی وقت دو رکعات پڑھ کر دعائے استخارہ پڑھیں۔ [بخاری: 6382]
1: استخارہ خود کیا جائے گا کسی سے استخارہ کروانا یہ باطل عمل ہے.
2: استخارہ کا تعلق سونے سے یا خواب سے ہرگز نہیں.
3: یہ اللہ سے مدد طلب کرنا ہے لہذا استخارہ کرنے کے بعد جو عمل بہتر لگے وہ کرلیں اللہ جو بہتر ہوگا وہ راستہ آسان کردیں گے اور جو برا ہوگا اس سے دور کردیں گے۔ اپنی خاص مدد سے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سوال: استخارے کا طریقہ سنت کے مطابق بیان کر دیں؟
جواب: کوئی بھی صحیح یا جائز کام بندہ کرنا چاہے تو پہلے اس کے خد و خال سمجھ لے، جب اس کام کو کرنے میں فائنل قدم اٹھانا ہو تو پھر وہ دو رکعت نماز پڑھے، پھر استخارے کی دعا اگر اس کو زبانی یاد ہے تو یہ سجدے میں یا التحیات میں پڑھ سکتا ہے، یا پھر سلام پھیر کر کتاب سے بھی پڑھے سکتا ہے، پھر وہ کام کرلے، اگر ہوگیا ہے، تو صحیح ہے، اگر نہیں ہوا ہے، تو مطلب اللہ تعالیٰ نے نہیں کروایا، یہ خصوصی دو رکعت ہیں، دعا میں “ھذا الامر” کی جگہ کام کا نام لے سکتے ہیں، نہ لے تو پھر بھی صحیح ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




