سوال 6646

السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
سوال یہ ہے ایک شخص کہ ہاں بچہ پیدا ہوا اس وقت اس کے پاس عقیقہ کرنے کی استطاعت نہیں تھی، لڑکا پیدا ہونے پر کس جانور کا عقیقہ کیا جائے گا اور لڑکی پیدا ہونے پر کس جانور کا عقیقہ کیا جائے گا اور کیا اس عقیقے کے گوشت میں سے سارا گوشت عقیقہ کرنے والا خود رکھ سکتا ہے، اس گوشت کے بارے میں بھی بتائیں اس گوشت کا کیا کرنا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
عقیقہ کرنا مسنون عمل ہے، اگر ولادت کے وقت استطاعت نہ ہو تو بعد میں جب قدرت حاصل ہو جائے، عقیقہ کر دینا چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بچہ عقیقے کے ساتھ گروی ہوتا ہے، اس لیے تاخیر ہو جائے تب بھی عقیقہ کر دینا بہتر ہے۔
جانور کے نر یا مادہ ہونے سے عقیقے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، مذکر ہو یا مونث دونوں درست ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ چھوٹا جانور ہو، جیسے: بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، چھترا، چھتری، مینڈھا یا مینڈھی وغیرہ۔
افضل طریقہ یہ ہے کہ: لڑکے کی طرف سے دو جانور لڑکی کی طرف سے ایک جانور قربان کیا جائے، یہی سنت کے زیادہ قریب ہے۔ عقیقے کے گوشت کے بارے میں وسعت ہے: گوشت کچا تقسیم کرنا بھی جائز ہے پکا کر خود کھانا بھی درست ہے
چاہیں تو سارا گوشت خود رکھ سکتے ہیں اور چاہیں تو دعوت کر سکتے ہیں۔
اصل شرط جانور ذبح کرنا ہے، ذبح کے ساتھ ہی عقیقہ ادا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد گوشت کے استعمال میں انسان کو اختیار ہے، البتہ افضل یہی ہے کہ اس خوشی کے موقع پر دوسروں کو بھی شریک کیا جائے۔
واللہ اعلم۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ