سوال (6479)

کیا جادو کے الفاظ میں تاثیر پائی جاتی ہے؟ اور کیا اس کے اثرات صرف ذہنی و جسمانی عوارض تک محدود ہیں یا کہ یہ کسی چیز کی ماہیت تبدیل کر سکتا ہے یا رزق میں بلا واسطہ کمی پیشی کر سکتا ہے یا اولاد دینے سے مانع ہو سکتا ہے؟ انسان کو حقیقی طور پر جانور یا جانور کو انسان بنا سکتا ہے؟

جواب

پہلی بات یہ ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے، ارادہ کونیہ کے ساتھ مشیت ہے، جادو صرف ذہن نہیں بلکہ جسم پر اثر بھی کرتا ہے، آنکھوں پر اثر، اگر بہت ہی بری شکل ہو، ماہیت کو تبدیل کردے، ایسا بھی ممکن ہے، لیکن بہت کم ہوتا ہے، عمومی طور پر جسم دل اور دماغ تک محدود ہوتا ہے، لیکن انسان کو دیکھائی دیتا ہے جو حقیقت پر نہیں ہوتا، اس کا ہم انکار نہیں کر سکتے، موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ پڑھیں، تو شاید بات سمجھ میں آ جائے۔

“قَالَ بَلۡ اَلۡقُوۡا‌ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ اَنَّهَا تَسۡعٰى” [طه: 66]

«کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں»
ان کو لاٹھیاں اور رسیاں حقیقت میں ایک روپ اختیار کر چکی تھی، اس لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی اژدھا نے ان کو کھالیا تھا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ، اگر کہا جائے کہ!
1۔ جادوگروں کی رسیاں تو اصل میں رسیاں ہی تھیں، مگر جادو نے تخیل پر ایسا اثر کیا کہ وہ چلتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ تو یہ تو قرآن سے ثابت ہے۔ یعنی جادو کا ذہن پر اثر انداز ہونے کے باوجود حقیقت کا تبدیل نہ ہونا۔ ماہیت کی تبدیلی پر کیا دلیل ہے ؟
2۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ میں تبدیل ہو جانا، حقیقی تھا، لہذا اس نے رسیوں کو کھانا شروع کر دیا ۔کیونکہ یہ معجزہ تھا اور معجزات اور یہ جادو میں یہی فرق ہوتا ہے۔ تو کیا ایسا کہنا درست ہے ؟
نیز اگر جادو سے ماہیت تبدیل ہو سکتی ہے تو کیا رزق میں بھی کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ اگر جادو کے ذریعے بھی انسان کو بندر بنایا جا سکتا ہے تو پھر جادو اور معجزات میں کیا فرق رہا؟
جواب: اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس کا مطالعہ کرنا چاہیے، اگر ذہن دل اور دماغ پر اثر ہو سکتا ہے تو ماہیت پر اثر کون ہوتا ہے، وہ لاٹھیاں اور رسیاں تھی یا واقعتاً کچھ تھی کہ اژدھا کو نگلنا پڑا، اس پر غور کرنا چاہیے، اب روایت کیسی ہے، بعض روایات میں ایک دعا کا ذکر ہے کہ میں وہ دعا نہیں پڑھتا تو یہودی مجھے اپنے سحر ایک گدھے بنا دیتے، جو انکار پر آتا ہے تو وہ انکار ہی کرتا ہے، باقی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ارادہ کونیہ سے ایسے ہوتا ہے، یہ آزمائش ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: 1۔ گدھا بنا دینے والے الفاظ کعب احبار سے منقول ہیں۔ (موطا 1707)
2۔ اگر یہ کہا جائے کہ جادو کے اثرات بذریعہ شیاطین جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں، نہ کہ جادو کے الفاظ میں۔ تاثیر کی وجہ سے۔ اصلا جادو کے الفاظ کفر پر مبنی ہوتے ہیں، جس سے شیاطین راضی ہو جاتے ہیں اور وہی کام سر انجام دیتے ہیں جو جادوگر ان سے چاہتا ہے اور جن پر شیاطین کو استطاعت ہوتی ہے۔ اس سے بڑھ کر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ مثلا انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑنا، کچوکے لگانا، جسمانی امراض و استحاضہ میں مبتلا کرنا، ذہنی کیفیات پر اثر انداز ہونا، جنون طاری ہونا وغیرہ، تو کیا درست ہے؟
جواب: یہ بات تو صحیح ہے کہ وہ شیطان کو قابو کرتے ہیں، پھر وہ جسمانی عوارض کی کاروائی ڈالتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: نیز اگر ماہیت کا تبدیل ہونا درست ہے تو جادو گر لوہے کو سونے میں تبدیل کیوں نہیں کر سکتے؟ جادو کر کے بھی فرعون سے اجر مانگنا، کیا دلیل نہیں کہ ماہیت کی تبدیلی پر انہیں اختیار نہیں؟
جواب: جو لوگ منکر ہیں، کچھ تو جنات کے ہی منکر ہیں، تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے پاس پایا جاتا ہے کہ یہ سب ہمارے پاس ہیں، بیرون ممالک میں کچھ نہیں ہوتا، حکومت وقت کو درست کیا جائے، کشمیر کو آزاد کیا جائے، ان بنیادوں پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ، اس میں جادو کا انکار نہیں، بلکہ کن حدود و قیود میں یہ اثر انداز ہو سکتا ہے، اس کی وضاحت ہے۔ ماہیت کی تبدیلی پر ابھی تک کوئی نص میرے علم میں نہیں آئی۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہیت کی تبدیلی کا فرمایا ہے تو پھر ضرور ایسا ہی ہو گا۔
جواب: میری بھی نص پر بات نہیں ہے، ایک رائے ہے، ممکن ہے کہ ایسا ہو یا ایسا نہ ہو، تلاش کرنا چاہیے، ایک حساس موضوع ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ