جاہ پرست مشائخ۔۔۔!
انسان کے اندر دو ہوسیں ہیں۔ پیسے کی اور جاہ و مرتبے کی۔ انہی دو باتوں کی ہوس انسان کو زمین میں فساد پر آمادہ کرتی ہے۔ پیسے کی ہوس سے پاک ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان کا دامن دوسری ہوس سے بھی آلودہ نہیں ہے بلکہ عہدہ و منصب، نام و نمود اور جاہ و مرتبے کی ہوس پیسے کی ہوس سے زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ اگر علماء کے طبقے کی بات کی جائے تو ان کے اندر اصل میں جاہ پرستی کی ہوس ہی ہوتی ہے جو انہیں دوسرے علماء کے خلاف آمادۂ پیکار کرتی ہے۔ جس عالم کے گرد کچھ عقیدت مند جمع دیکھتے ہیں، اسی کو اپنا رقیب سمجھ لیتے ہیں۔ پھر کبھی اسے بدعتی اور بدعقیدہ کہہ کر، کبھی اس کے خلاف حاکم وقت کے کان بھر کر اور کبھی کسی دوسرے طریقے سے اس کے درپے آزار ہوتے ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے تذکرہ میں اپنے زور بیان سے ایسے جاہ پرست مشائخ کی خوب تصویر کھینچی ہے۔ سلیم شاہ سوری کے عہد کے ایک مشہور درویش کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“نفس پرستی کا یہ حال تھا کہ فقیری کے سجادے پر فرعونیت کا تاج پہن کر بیٹھتے تھے اور جس عالم و صوفی کی طرف لوگوں کو ذرا بھی مائل پاتے، فورا اپنے مریدوں کی فوج لے کر چڑھ دوڑتے تھے۔ کبھی بحث و مناظرہ کے زور سے، کبھی سوئے اعتقاد کے الزام سے، اور کبھی اور کوئی حیلہ و بہانہ پیدا کر کے (اور اس گروہ کے پاس مکر و حِیَل کی کیا کمی ہے؟) اس طرح ذلیل و رسوا کر دیتے کہ غریب شہر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا۔
ایک دنیا دار فاسق اور ایک دنیا پرست عالم میں یہی فرق ہے کہ پہلا اپنی ہوا پرستیوں کو اعترافِ فسق کے ساتھ انجام دیتا ہے اور دوسرا دینداری اور احتساب شرعی کی ظاہر فریبی سے۔
نفس و شیطان کے خدع و فریب کے کاروبار بہت وسیع ہیں۔ لوگوں نے ہمیشہ اس کو مے کدوں ہی میں ڈھونڈا۔ مدرسوں اور خانقاہوں میں ڈھونڈتے تو شاید جلد پتہ لگ جاتا۔
یارب زسیل حادثہ طوفاں رسیدہ بود
بت خانۂ کہ خانقہش نام کردہ اند”
(تذکرہ، 63)
یہ بھی پڑھیں:گمنام سائنسدان: ناسا سے جنت کا سفر




