سوال 6652
اس حدیث کی وضاحت مطلوب ہے؟ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جہنم کو شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔‘‘ بخاری، مسلم۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بات واضح ہے، بس تھوڑی سی توجہ درکار ہے۔ جہنم کو شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے، یعنی جہنم تک پہنچنے والے راستے عام طور پر انسان کی جذباتی خواہشات اور شہوات سے عبارت ہیں، جن پر انسان تیزی سے گر جاتا ہے، الا ماشاء اللہ، الا ما رحم ربی۔ نتیجہ یہ کہ اگر انسان نے اپنی زندگی میں ان راستوں کو اختیار کر لیا، تو جہنم کا راستہ اس کے لیے کھل جاتا ہے۔
جبکہ جنت کو سختیوں، مکاره اور ایسے اعمال کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے جنہیں انجام دینا آسان نہیں۔ انسان فطری طور پر ایسے اعمال کو کم کرتا ہے کیونکہ یہ جذباتی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتے۔ اس لیے جنت تک پہنچنے کے راستے آسان نہیں کھلتے، اور پردے ہٹتے نہیں جب تک کہ انسان اپنے اعمال اور نیتوں میں جد و جہد نہ کرے۔
لہذا اپنی زندگی کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں اور کن راستوں پر قدم رکھ رہے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




