سوال       6732

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب جماعت کھڑی ہوئی ہو، امام صاحب اور مقتدی دونوں پڑھ رہے ہوں تو پیچھے سے تیسرا بندہ جو ہے وہ آکر مقتدی کو پیچھے کی طرف کھینچ کر اپنی صف میں شامل کر سکتا ہے اور اگر امام صاحب اور مقتدی دونوں تشہد کی صورت میں ہوں اور آخری تشہد ہو تو اس کے لیے جو تیسرا بندہ ہے اس کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر کوئی شخص اپنے امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت میں صرف دو افراد ہوں، ایک امام اور ایک مقتدی تو مقتدی امام کے دائیں جانب کھڑا ہوگا۔
اب اگر تیسرا شخص آ جائے تو اس کی صورتیں یہ ہیں: اگر جگہ ہو تو آنے والا، پہلے مقتدی کو پیچھے کھینچ لے اور اس کے ساتھ صف بنا لے۔
اور اگر پیچھے جگہ نہ ہو لیکن آگے گنجائش ہو، تو امام صاحب آگے بڑھ جائیں گے اور دونوں مقتدی پیچھے وہیں کھڑے ہو جائیں گے، اور اس طرح صف مکمل ہو جائے گی۔
اگر کسی وجہ سے آنے والا غلطی سے امام کے بائیں جانب کھڑا ہو جائے اور اسے علم نہ ہو، تو ایسی صورت میں: امام دونوں مقتدیوں کو پیچھے کر دے اور خود آگے رہے، یا دونوں کو پیچھے دھکیل دے اور وہ خود اپنی جگہ قائم رہے، یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
البتہ اگر یہ صورت اس وقت پیش آئے جب تشہد میں بیٹھا ہوا ہو تو اب ظاہر ہے کہ آنے والا اس کو اٹھانے سے رہا۔ ایسی حالت میں طریقہ یہ ہے کہ: آنے والا اس مقتدی کے دائیں طرف جا کر بیٹھ جائے جو پہلے سے امام کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، یعنی وہ مقتدی کے ساتھ بیٹھے، امام کے برابر نہ بیٹھے۔
ہاں اگر غلطی سے وہ امام کے برابر ہی بیٹھ جائے، تو نماز بہرکیف ہو جائے گی،
لیکن بہتر، افضل اور مسنون طریقہ یہی ہے کہ وہ مقتدی کے ساتھ دائیں جانب بیٹھے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ