سوال 7004
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ شیخ محترم ایک سوال کا جواب درکار ہے آیا رکوع کی حالت میں جماعت کے ساتھ ملنے والا شخص تکبیر تحریمہ کے ساتھ سینے پہ ہاتھ باندھ کر رکوع میں جائے گا یا ہاتھ باندھے بغیر؟
نیز رکوع میں ملنے کی صورت میں رکعت شمار ہوگی کہ نہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
تکبیرِ تحریمہ کہے گا، ہاتھ نہیں باندھے گا اور پھر اس حالت میں چلا جائے گا جس حالت میں امام ہے تکبیر کہتا ہوا تو پہلی تکبیر تکبیرِ تحریمہ ہو گئی دوسری انتقال کی ہو گئی۔ اگر وہ ایک کہتا ہے تو بھی کفایت کر جائے گی، وہ تحریمہ شمار ہو گی، تحریمہ فرض ہے۔ ہاتھ نہیں باندھے گا۔
رکوع میں ملنے والے کی رکعت ہوتی نہیں ہوتی۔ ہمیشہ سے مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ قیام بھی فرض ہے اور فاتحہ بھی، تو جب دو چیزیں چھوٹ گئیں تو اس رکعت کو شمار نہیں کرنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



