سوال (6590)
جمہوریت کو حرام قرار دینے کا نظریہ کس بنیاد یا دلیل پر ہے؟ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے، جس میں حکمرانی کا اختیار عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور قوانین عوام کی رائے یا ووٹ کے ذریعے بنائے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر یا اس کی بالادستی نہیں ہوتی، اور لوگوں کے ذریعے لوگوں پر حکومت کی جاتی ہے۔
اسلام میں حکمرانی کا نظام بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں نظامِ حکومت اللہ کی بالادستی پر مبنی ہوتا ہے، جس میں شوریٰ اور اہلِ علم کی رائے شامل ہوتی ہے۔ اسلامی نظام میں نکمے یا غیر اہل افراد کو اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
جہاں جمہوریت میں ایک عورت، ایک مرد، ایک چھوٹا، ایک عالم سب کا ووٹ برابر ہوتا ہے، وہاں بہت سی قباحتیں بھی موجود ہیں۔ اس وجہ سے جمہوریت اسلامی اصولوں کے خلاف اور کفر کے نظام کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
اسی لیے علما نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی کتاب “خلافت اور جمہوریت” ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
شیخنا اس میں میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اس صدی کے سب سے بڑے غیر مسلم دانشور برٹن رسل ہیں۔ ان کی کتاب “Principles of Social Reconstruction” میں باقاعدہ ایک بیانیہ موجود ہے، جس کی بڑی تفصیل ہے۔ اس میں سے صرف ایک جملہ ذکر کرنا چاہوں گا:
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت دراصل منافقت کا دوسرا نام ہے، اور یہ حقیقت ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا: 1992 میں الجزائر میں Islamic Salvation Front غالباً جس کے سربراہ کا نام عباس المدنی تھا، نے 92 فیصد سیٹیں حاصل کیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت فرانس کا صدر مترا تھا، اس کے معدے میں کیوں مروڑ اٹھا؟
اس نوے فیصد سیٹیں جیتنے والی Islamic Salvation Front کے جتنے امیدوار اور ممبران تھے، ان کے گھروں پر ٹینک چڑھا دیے گئے، اور اتنا ظلم کیا گیا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہی بات آگے بڑھاتے ہوئے سمجھ آتا ہے کہ جمہوریت کا مطلب ان ظالموں کے نزدیک وہ کفریہ نظام ہے جو اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرے۔ جمہوریت کے ذریعے: راسخ العقیدہ لوگ کبھی برسر اقتدار نہیں آ سکتے۔
اگر راسخ العقیدہ لوگوں کو سیٹیں مل بھی جائیں، تو ان کو اقتدار کبھی نہیں دیا جائے گا۔ بارک اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




