جامعہ سلفیہ، اسلاف کی نشاط انگیز فکر اور راست منہج کا پاسبان و ترجمان ہے۔ یہ صرف پاک و ہند کے کبار علماء و اجل زعماء کے گہرے ادراک اور دوررس بصیرت کی اک یادگار و مثال ہی نہیں بلکہ تحریک اہل حدیث کا تسلسل اور اس کا اہم ستون ہے۔ اس تناور برگ کی تخم ریزی میں بزرگوں کا جو خلوص و جذبہ کارفرما تھا، وہ آج بھی اس کے ثمرات کی صورت میں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے مرکزی دارالعلوم ہونے کے باعث یہ ہر دور میں چوٹی کے علماء کا مسکن رہا ہے۔ بیسویں ماہرین علوم و متخصصین فنون نے اپنی جوانی کی توانیوں سے اس گلشن کو سینچا، ان قربانیوں سے یہ بام عروج کو پہنچا ہے۔ انہوں نے دنیا کی ظاہری چکا و چوند سے منہ پھیر کر اور بہت سے مادی فوائد کو ٹھکرا کے بانیان جامعہ کے پیش نظر مقاصد کو حق و سچ کر دکھایا ہے۔ جس قدر درمندی سے اس کی بنیاد رکھی گئی، تو آج شرق و غرب میں مصروف اس کے سینکڑوں فیض یافتگان کو دیکھ کر ان کی روح ضرور قرار پکڑتی ہو گی۔ ان میں سے ایک نام، مولانا عبدالعزیز علوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔
کوتاہ قد، نحیف و نزار جسم، منحنی سا چہرہ ۔۔۔ مگر علمی رسوخ اور مسائل پر دقت نظری کے اعتبار سے انتہائی بلند قامت، ایمان و کردار کی قوت سے گندھی شخصیت۔ ان کے چہرے سے پھوٹتی کرنیں ان کے ولی اللہ ہونے کا پتہ دیتی تھیں۔ زندگی میں ایسا نور اور شادابی میں نے کم ہی کسی کے چہرے پر دیکھی ہو گی، جس کے دیدار سے جہاں خدا یاد آ جائے تو وہیں دل میں ایمان کی نئی لہریں موجزن ہو جائیں۔ ان کی حدیث رسول کے ساتھ نسبت ہی فقط ان کا تعارف ہے۔ وہ چار دہائیوں پر محیط عرصے تک جامعہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ یہاں تک کہ وہ اور جامعہ سلفیہ لازم و ملزوم قرار پائے۔ حدیث کی جامع اور صحیح ترین کتاب کی سب سے زائد بار تدریس کا شرف بھی انہی کو حاصل رہا۔ گویا حدیث کا پڑھنا پڑھانا ہی ان کی ساری حیات کی کل متاع تھا۔ متواتر سال پورا تو بیک وقت تین تین اداروں میں بخاری کے درس کے لیے جانا ان کا روز کا معاملہ تھا۔ جب سبق بالکل چھوٹ گیا تو کچھ ہی دیر بعد راہی عدم ہو گئے۔ اکثر انہیں ایک روز خرابی صحت اور علالت کے باعث معالج کے پاس لے جاتے دیکھا، مگر اگلے ہی روز وہ کتاب تھامے مسجد تہہ خانہ کی جانب جا رہے ہوتے۔ ایک بار جب سال اختتام کے قریب تھا مگر ان کی رخصتوں کے باعث ابھی کتاب مکمل نہ ہوئی تھی تو سردی کی یخ بستہ لمبی رات حدیث پڑھاتے یوں گزار دی کہ عشاء کے بعد آغاز ہوا اور صبح اذان فجر پر جا کر وقفہ کیا۔ اس بڑھاپے میں جب بال سفید موتیوں کی طرح چمکتے ہوں، یہ بڑے مجاہدے کا کام ہے۔ اس قدر طویل عرصے کی تدریس کے باوجود جس دن بیماری کے باعث مطالعہ نہ کر پاتے تو سبق نہیں پڑھاتے تھے۔
ان کی اکثر تصنیفی خدمات کا مدار بھی حدیث شریف ہی تھا، جن میں جامع ترمذی اور صحیح مسلم کی شروح مطبوع ہیں۔ ایک روز صبح سویرے طلوع آفتاب سے قبل ہی لاٹھی اور ایک خادم کے سہارے یزدانی صاحب کو تلاش کرتے ہوئے ہماری جماعت میں قدوم میمنت نزول فرمائے۔ کہنے لگے: “دو تین دنوں سے کام روک رکھا تھا۔ اس مبارک سلسلے کا آغاز سوموار کو روزے کی حالت میں کیا تھا، اب سوموار کو ہی بحالت صیام آخری سطور لکھ کر آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔” اس وقت معلوم ہوا کہ صحیح بخاری پر ان کی تعلیقات مکمل ہوئی ہیں۔ ان کی اولو العزمی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسی روز استاد محترم طارق محمود صاحب کی معیت میں ان کی نئی طبع شدہ تالیف کا نسخہ شیخ صاحب کی خدمت میں پیش کرنے حاضر ہوئے تو ان سے سر راہ ہی ملاقات ہو گئی۔ استاد جی کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اب موطا امام مالک پر کام شروع کرنے والے ہیں اور پھر خاصی شرح و بسط کے ساتھ اس کے منہج اور سابقہ لکھی گئی کتب سے وجہ انفرادیت پر گفتگو فرمائی، جسے میں نے محفوظ بھی کیا تھا۔ اخیر کے ایام میں وہ جب ایک بات شروع کر لیتے تو اس کی تفصیل سے تفصیل میں چلے جاتے اور بحث در بحث نکلتی رہتی۔ دوران خطاب جس پر نظر پڑ جاتی اور محسوس کرتے کہ وہ دلچسپی لے رہا ہے تو باقی کا سارا وقت دائیں بائیں سے بے نیاز اسی سے محو کلام رہتے۔ گو کہ ہمیں ان سے براہ راست درس لینے کا موقع نصیب نہ ہوا مگر ہم فخر سے یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ہم ان کی محافل میں شریک رہے، ان کی گفتگو سے محظوظ ہوئے اور ان کے حسن معاملات کے چشم دید گواہ ہیں۔
ان کی شخصیت کا لازمی جزو ان کی درویشی و سادگی تھی۔ معمولی لباس زیب تن کیا کرتے۔ لیکن خاص مواقع پر گھر سے پوری شان سے برآمد ہوا کرتے تھے۔ تکلفات سے خاصے دور رہتے تھے۔ تصویر کے سخت خلاف تھے اس لیے ایسے مواقع پر احتراز کیا کرتے۔ لہذا کرسی صدارت پر براجمان بھی اکثر سر جھکائے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا شاید اونگ آ گئی ہے۔ تکمیل بخاری کے ایک موقع پر انہوں نے اسی سے بچتے ہوئے منہ پر ماسک لگایا ہوا تھا جس سے بولنے میں کچھ خلل واقع ہوتا۔ چوہدری صاحب حفظہ اللہ نے پہلے تمام کیمرے بند کروائے اور پھر انہوں نے ماسک اتار کر خطاب دوبارہ جاری کیا۔ مزاج میں عموما بہت نرمی تھی، طلباء کے ساتھ یوں گھل مل کر رہتے کہ مزاح اور لطائف بھی جاری رہتے۔ ہنستے مسکراتے تو صورت بچوں سی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی اور ان کے حسن کو چار چاند لگ جاتے۔ مگر کبھی جلال غالب آ ہی جاتا تھا۔ اس وقت ان کا چہرہ سرخ و سپید ہو جاتا اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ طبعیت کا رخ کب کس جانب پلٹے، قرائن سے بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ بڑے بڑے ان کے سامنے دم سادھے خاموش کھڑے رہتے۔ ایک تو یہ کہ ان کی جلالت اور مرتبت کے سبب تمام ان کا احترام کرتے۔ ایک عالم دین کا مقام ہم نے جامعہ میں آ کر ملاحظہ کیا۔ لوگ ان کی جوتے سیدھے کرنے کے حریص ہوا کرتے مگر وہ یہ موقع کم ہی دیتے۔ نماز کے بعد گھر تشریف لے جاتے اگر کہیں رک جاتے تو سارا جامعہ ان کے پیچھے کھڑا رہتا تاوقتیکہ وہ دوبارہ چلنا شروع کریں۔ اور دوسرا وہ تنقید ہمیشہ ٹھوس اور مدلل کیا کرتے جس سے تمام اپنی اصلاح کا سامان ڈھونڈا کرتے تھے۔ چوہدری صاحب حفظہ اللہ نے ایک بار فرمایا تھا “اگر کبھی ہم میں تھوڑا بہت ٹیڑھ پن واقع ہو جاتا تو وہ ہمیں فورا سیدھا کر دیتے ہیں۔”
ان کی زندگی کا ماحصل ان کا زہد و استغناء ہے۔ اپنے اخراجات کے بقدر لیا کرتے اور اس سے زائد آمدن کا انکار کر دیا کرتے۔ جامعہ نے ان کے لیے ایک خطیر رقم کا اعلان کیا تو جاتے ہوئے وہ بھی جامعہ کے نام لکھ گئے۔ کسی سے مرعوب ہونا یا دب کر رہنا ان کی طبیعت کے موافق نہ تھا۔ جس بات کو حق سمجھتے بغیر خوف و خطر کے اس کا اظہار کیا کرتے۔ ایک بار وفاقی وزیر مملکت کی جامعہ آمد ہوئی۔ ان سے تقریر میں کچھ جھول ہوئی تو آپ نے اس پر بروقت اور برمحل گرفت فرمائی۔
صف اول اور تکبیر اولی کی اہمیت ہمیں ان سے معلوم ہوئی۔ اذان ہوتے ہی مسجد کو چلے آتے، مصلی امامت کے بالکل پیچھے سنن و نوافل ادا فرماتے۔ اس کبر سنی میں بھی آخری کچھ نمازوں کے سوا کھڑے ہو کر ہی ادا کیا کرتے اور اس کے بعد کافی دیر تک آنکھیں بند کیے اور سر جھکائے اذکار کرتے جاتے کہ ٹھوڈی سینے پر جا لگتی۔ ننگے سر نماز پڑھنے والوں پر برہم ہوتے اور اگر کوئی پاس دیکھ لیتے تو اسے پچھلی صف میں کر دیتے۔ کہا کرتے” مجھے تعجب ہوتا ہے، اتنے وزنی بال سر پر رکھ لیتے ہیں _جن کو سنبھالنا بھی مشکل ہے_ مگر ایک ہلکی سی ٹوپی رکھنا انہیں بھاری لگتا ہے۔ جی چاہتا ہے جو بالوں کا شوق انہیں ٹوپی لینے میں دخیل ہے انہیں قینچی سے کاٹ دوں۔” شروع شروع میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ سلام پھیرنے کے بعد پیچھے کسی کو رکعات پوری کرتے دیکھا ہو۔ مگر بعد میں جب معمول خراب ہو گیا اور کئی صفیں پیچھے نماز پڑھتے دیکھے تو بہت کڑھتے۔ فجر اور مغرب کے بعد جامعہ کے باغیچوں کے گرد چہل قدمی کرتے۔ اس دوران بھی تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔
آپ صرف ایک خشک عابد زاہد یا فقہ و حدیث کی گتھیاں سلجھانے والے قدیم طرز کے عالم نہ تھے بلکہ حالات حاضرہ پر بھی ان کہ برابر نظر رہتی۔ ہر روز پانچ نمبر کے باہر بیٹھ کر اخبار پڑھنا ان کا معمول تھا۔ استاد جی نے انہی کے لیے بطور خاص اپنے ہاں اخبار لگوا رکھا تھا۔ شیخ صاحب کی وفات کے کچھ دنوں بعد ملاقات ہوئی تو رندھی آواز سے کہنے لگے “آج اخبار کا حساب بھی برابر کر دیا۔ کل سے وہ نہیں آئے گا۔” گرمیوں میں دھوپ آ جاتی تو کرسی اندر لے جاتے۔ نظر کمزور ہوئی تو شیشہ رکھ کر اخبار پڑھتے۔ جب بستر پر دراز ہوئے اور آنا جانا موقوف ہو گیا پھر بھی ایک مصروفیت جو جاری رہی وہ اخبار پڑھنے آنے کی تھی۔ عموما اپنی سیاسی آراء کا اظہار کم ہی کرتے مگر کچھ مواقع پر ان کا موقف سنا تو داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
فضائل و مناقب یا مسائل سے متعلقہ خاص دنوں کی آمد ہوتی تو روایت کے برعکس، بطور خاص صبح وعظ کرتے۔ سری نمازوں کی امامت انہی کے سپرد تھی لہذا کسی ایک نماز کے بعد دعا ضرور کرواتے۔ جو اکثر ظہر اور کچھ حالات میں عصر ہو جاتی۔ دعا انتہائی جامع اور خشوع خضوع سے لبریز ہوتی۔ میں کبھی مصلحت کے پیش نظر دعا کرتا تو کرتا مگر عموما ہاتھ اٹھائے بغیر دعا مانگتا۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ کچھ طلباء فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے بارے تحفظات رکھتے ہیں۔ ان شبہات کو انہوں نے اپنے دلائل و براہین سے واضح کیا۔ طلباء کو فجر کی نماز کے لیے باقاعدہ اٹھایا کرتے۔ اس دور میں ہم رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔ فجر کے قریب لیٹتے تو گہری نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔ ایک بار ساری مسجد خالی ہو گئی اور صرف میں سویا پڑا تھا۔ لاٹھی کو لٹا کر یوں مارا کہ پوری کمر زد میں آ گئی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا تو بولے “سب سنت پڑھ چکے ہیں اور تمہاری نیند نہیں پوری ہو رہی؟” اس سے پہلے تو چار نمازیں پہلی صف میں پڑھتا ہی تھا اس میں پانچویں فجر کی بھی شامل کر لی۔ پھر تو ڈر کی یہ حالت تھی کہ کافی فاصلے سے ہی ان کی لاٹھی زمین پر پڑنے کی آواز سے اٹھ کر بیٹھ جاتا۔
شیخ صاحب نے کئی بار اس کا ذکر کیا کہ میں تو اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ! مجھے چلتا پھرتا ہی لے جانا اور کسی کا محتاج نہ کرنا۔ اپنی صحت و عافیت کی بہت دعا کیا کرتے۔ اللہ تعالی نے انہیں بہت سے امتحانوں و آزمائشوں سے امان دے دی۔ کچھ دنوں سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ سانحہ ارتحال کی شام ہم تین دوست عیادت کو گئے تو کچھ احباب دروازے پر واپس جاتے ملے۔ معلوم ہوا کہ شیخ صاحب کی طبعیت کچھ بگڑی تو آئی سی یو میں داخل کر لیا گیا ہے۔ ہم کچھ وقت ٹھہرے تھے کہ مغرب کا وقت ہو گیا اور جامعہ سے صرف ہم تین دوست ہی رہ گئے۔ اسی دوران ڈاکٹر نے دوائی کی ایک چٹی لکھ کر دی اور میں دوستوں کو رکنے کا کہ کر چلا گیا کہ اکٹھے نماز پڑھنے جائیں گے۔ واپس آیا تو دیکھتا ہوں کہ عثمان بھائی کو اندر بلایا جا رہا ہے اور مجھے ادویات واپس کرنے بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد وہ نمناک آنکھوں سے باہر آئے اور ہم سب کی ہچکی بندھ گئی۔
ہر شخص اس دنیا سے گزر جانے والا ہے۔ جدائی کا داغ بھی ایک دن مٹ جاتا ہے اور فاصلوں کے زخم بھر جاتے ہیں مگر ایک عالم کی جدائی کی کسک صدا محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر اس کی مسند ویران اور باقی ماندہ اہداف نامکمل رہ جائیں تو یہ چوٹ تکلیف زیادہ دیتی ہے۔
اللہ تعالی انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی تمام حسنات کو قبول فرمائے!
سعد عبداللہ



