سوال (6373)

جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے کیا؟

جواب

اس حدیث کی صحت وضعف میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہے۔
شیخ البانی رحمه الله تعالى، شیخ شعیب الأرناووط وغیرہ حسن قرار دیتے ہیں اور شیخ مصطفی العدوی وغیرہ ضعیف قرار دیتے ہیں۔
اس روایت میں بر الوالدین، اطاعت والدین کے ساتھ جنت کو پانے کی ترغیب دی گئ ہے کیونکہ حقوق العباد میں اسباب جنت میں سے یہ سب سے افضل واقرب ذریعہ وسبب ہے یہی معنی ومراد ہے اس حدیث کا۔
تو یہ روایت ترغیب وفضائل کے باب سے ہے اس لئے اسے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اطاعت والدین پر جنت کی جزا اور عدم اطاعت پر جہنم کی وعید دیگر احادیث سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کے متن میں کوئی نکارت وغرابت نہیں ہے۔
یہ حدیث اسنادی اعتبار سے ایک طویل بحث رکھتی ہے جس کا یہاں ذکر کرنا مفید نہیں ہے بس یہ روایت علی الاقل حسن درجہ کی ہے۔
دیکھیئے مسند أحمد بن حنبل: (15538) بمع تعلیق،سنن ابن ماجہ:(2781) ،سنن نسائی:(3104)، السنن الکبری للنسائی:(4297) الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:(1371)، شرح مشكل الآثار للطحاوی:(2132)، المعجم الكبير للطبرانى:(2202)2/ 289، الترغيب في فضائل الأعمال لابن شاهين:(292)، مستدرک حاکم:(2502 ،7248)، السنن الکبری للبیھقی:(17832)، شعب الإيمان للبيهقى:(7448 تا 7450)، العلل للدارقطني:(1227)7/ 77 ،78، موضح أوهام الجمع والتفريق للخطيب البغدادى:1/ 31، 32،33۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ