سوال (6593)
شیوخ کرام سے سوال ہے کہ یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ جنت میں فقراء کی کثرت ہوگی کیا کسی محدث نے یا کسی شارح اس کی توجیہ بیان کی ہے کہ فقراء کو یہ مقام کیوں ملا ہے اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
جنت میں زیادہ تعداد فقراء کی ہو گی، لیکن یہاں فقرا سے مراد وہ ہیں جو ایماندار، مخلص اور اہل تقویٰ ہوں، نہ کہ گنہگار، فاسق یا شرک و بدعات کرنے والے۔
یہ فقرا وہ ہیں جو اپنی زندگی الله اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت میں گزارتے ہیں اور صراط مستقیم پر قائم رہتے ہیں۔
پہلے انبیاء کے پیروکار اور صحابہ کرام میں بھی زیادہ تر ایمان لانے والے فقراء تھے۔ مثال کے طور پر اصحاب صفہ کو دیکھ لیں جو شدت فقر اور بھوک کے باوجود الله اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لگے رہے۔
مسند امام أحمد بن حنبل: ( 23938) سنن ترمذی: (2368) سندہ صحیح میں حدیث ہے سیدنا فضالہ بن عبید رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھتے تو اصحاب صفہ میں سے کئی لوگ، کئی رجال جو ہیں وہ شدت بھوک کے سبب زمین پر گر جاتے تھے اور جو دیہاتی لوگ تھے۔ وہ ان کو مجنوں اور دیوانہ کہتے تھے تو جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے تو ان کی طرف متوجہ ہوتے اور انہیں ارشاد فرماتے:
اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ الله نے تمہارے لیے آخرت میں کیا کیا درجات تیار کیے ہیں اور الله کے نزدیک تمہارا کیا مقام ہے، تو تم اس سے کہیں زیادہ اپنے فقر و فاقہ اور حاجت کو پسند کرتے۔ رہے مالدار لوگ جو زکوٰة ادا کرتے، الله کے راستے میں خرچ کرتے، جہاد کرتے اور بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں، وہ بھی الله تعالی کی رحمت سے جنت میں جائیں گے۔
باقی یہ جو حدیث ہے جس کا خلاصہ کہہ لیں یا اس کا مفہوم یا معنی کہ نبی پاک نے جنت میں جھانکا تو آپ نے وہاں پر کثرت فقراء کی دیکھی اس مفہوم کی حدیث بخاری شریف، مسلم شریف، مسند احمد اور ترمذی میں مختلف صحابہ سے متعدد سندوں کے ساتھ وارد ہوئی ہے، اور خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں فقراء کی کثرت سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایماندار، مخلص اور الله و رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات پر قائم رہنے والے ہیں ان کے فقر وفاقہ نے انہیں رب العالمین کی عبادت و اطاعت اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اتباع و پیروی سے دور نہیں کیا نہ ہی وہ کبھی سرکش ونافرمانی کرنے والے اور ناشکرے بنے۔
سائل کا جس حدیث مبارک کی جانب اشارہ تھا میں اسے نقل کرتا ہوں۔
ﻋﻦ ﻋﻤﺮاﻥ ﺑﻦ ﺣﺼﻴﻦ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻗﺎﻝ: اﻃﻠﻌﺖ فی اﻟﺠﻨﺔ ﻓﺮﺃﻳﺖ ﺃﻛﺜﺮ ﺃﻫﻠﻬﺎ اﻟﻔﻘﺮاء، ﻭاﻃﻠﻌﺖ ﻓﻲ اﻟﻨﺎﺭ ﻓﺮﺃﻳﺖ ﺃﻛﺜﺮ ﺃﻫﻠﻬﺎ اﻟﻨﺴﺎء،
صحیح البخاری: (3241، 5198، 6449، 6546)، صحیح مسلم: (2737)، سنن ترمذی: (2602، 2603)، مسند أحمد بن حنبل: (2086، 3386 ،19852)
یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی الله عنہ سے مروی ہے اور دنوں سے ہی نقل کیا جانا راجح ہے جیسا کہ امام ترمذی نے کہا ہے۔
اس حدیث پر تفصیل سے بحث پڑھنی ہو تو شرح صحیح البخاری لابن بطال وغیرہ کی طرف رجوع کریں۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




