سوال      6728

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
اللہ علماء کرام کو خوش خرم رکھے آمین

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ: ” ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ “.

اس حدیث سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جائے ہجرت کو چھوڑنا حرام ہے لیکن سلمہ بن اکوع اکیلے تو نہیں اور کتنے ہی صحابہ نے مدینہ،وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھوڑ دیا تھا؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں، فتح مکہ کے بعد ہجرت کا وہ حکم باقی نہیں رہا، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

“لا ھجرة بعد الفتح”۔

البتہ ابتدا میں جو صحابہ کرام ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے، اُن کے لیے یہ پسندیدہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ اسی جگہ واپس لوٹ جائیں جہاں سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ اسی مفہوم کی طرف یہ ارشاد اشارہ کرتا ہے:

“بل المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون”

یعنی مدینہ ہی اُن کے لیے بہتر تھا، اگر وہ جانتے۔
یہ حکم ایک خاص زمانے تک رہا۔ بعد میں جب حالات بدل گئے، لوگ مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور ضرورت پیش آئی، تو اجازتِ عامہ دے دی گئی، اور بعض حضرات کو اجازتِ خاصہ بھی حاصل تھی۔
اسی پس منظر میں وہ بات سمجھی جاتی ہے، جسے اس طرح تعبیر کیا گیا کہ: تم ایڑیوں کے بل پلٹ گئے، یعنی بعض حضرات دیہاتی زندگی اختیار کر کے اعراب میں جا بسے۔
جب اس پر سوال ہوا تو انہوں نے وضاحت کی کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے خاص طور پر اجازت دی تھی۔ اسی اجازت کے تحت وہ ربذہ کے مقام پر منتقل ہوئے، اور پھر وفات سے کچھ دن پہلے دوبارہ مدینہ منورہ واپس آ گئے۔
اس طرح یہ پورا معاملہ اپنے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ