سوال (6193)
بعض روایات میں جنازے میں پانچ یا چھ تکبیرات ملتی ہیں، کیا صحیح ہیں، اس طرح جنازہ میں رفع الیدین کرنا کیسا ہے؟
جواب
راجح قول چار تکبیرات کا ہے، تعظیم کی وجہ سے پانچ یا چھ کہی جا سکتی ہیں، ہمارے نزدیک جنازے کی تکبیرات میں رفع الیدین کیا جا سکتا ہے، سنن بیھقی میں ایک روایت ہے، نبی کریم ﷺ رکوع سے پہلے کی تکبیرات میں رفع الیدین کرتے تھے، اس طرح سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
نماز جنازہ میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔
ابن ابی شیبہ: کتاب: جنائز کے متعلق احادیث
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْهِ مَعَ کُلِّ تَکْبِیرَةٍ عَلَی الْجِنَازَةِ، حدیث نمبر: 11505
حضرت عبداللہ بن عمر نماز جنازہ کی ہر تکبیر میں رفع یدین فرماتے۔
سندہ صحیح، ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




