سوال 6762
جمعے کے دن اہل حدیث مساجد میں خطبے کی اذان منبر کے سامنے دینے کا شرعی حکم معلوم کرنا ہے؟
جواب
اذان لوگوں کو باخبر کرنے اور نماز کے لیے جمع کرنے کا ایک مشہور اور مسنون طریقہ ہے۔ جب ہم اذان کے حوالے سے روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں، جب بجلی یا جدید آلات نہیں تھے، تو مسجدِ نبوی میں بلند مقام پر اذان دی جاتی تھی تاکہ آواز دور تک پہنچ سکے۔ بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ دروازے پر اذان دی جاتی تھی۔ مقصد ہمیشہ یہی رہا کہ آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔
اب اللہ نے جدید ایجادات کے ذریعے انسان کو سہولت دی ہے، جیسے سپیکر وغیرہ، تو جہاں سپیکر موجود ہو وہاں اذان دے دیجیے۔ سپیکر آگے بڑھا کر، دروازے کے پاس یا ممبر کے قریب بھی اذان دی جا سکتی ہے، سب ٹھیک ہے۔ طبرانی کی روایت میں ذکر ہے کہ اذان “عند المنبر” یعنی منبر کے پاس بھی دی جا سکتی ہے۔ میں نے اپنی کتاب فضائلِ جمعہ میں بھی اس کا ذکر کیا ہے، شاید یہ آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




