سوال 6656
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال ہے: نئی مسجد ہے ایک سال پہلے بنی ہے اور اکثریت غیر اھلحدیث اور جھلاء کی ہے تو نماز جمعہ کے بعد اجتماعی دعا کروائی جاتی ہے کسی کی درخواست پر، اکثر دعا کروائی جاتی ہے تو کیا یہ عمل بدعت ہے؟
یا اس طرح کے ماحول میں اس کی گنجائش موجود ہے؟
رہنمائی فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، ایسے لوگوں کے ساتھ حکمت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات اجتماعی دعا کروادی جائے، کبھی صرف زبانی کہہ دیا جائے۔ اس طرح لوگ اگر پوچھیں تو انہیں سمجھا دیا جائے، زیادہ تر لوگ مان جائیں گے۔
حالات اگر خطرناک نہیں ہیں تو کبھی کبھار کروا دینا یا زبانی کہنا کافی ہے۔ لوگ خود ہی شامل ہو جائیں گے، اور اس میں مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ حکمت سے کام لیا جائے، کسی کو متنفر نہ کریں، مسلکی غیرت و حمیت برقرار رہے، اور کوئی دانا و باخبر شخص مصلے کی نگرانی کرے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




