سوال 6952

موضوع: جمعہ کے دن کاروبار بند رکھنے کے حوالے سے فتویٰ کی درخواست
محترم علماء کرام!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں آپ سے ایک فقہی مسئلے میں رہنمائی چاہتا ہوں:
قرآن مجید میں سورۃ الجمعہ آیات 9 تا 11 میں حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو خرید و فروخت چھوڑ کر نماز جمعہ کے لیے حاضر ہو جاؤ، اور نماز ادا ہونے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔
سوال یہ ہے کہ ہم لوگ جمعہ کی اذان کے وقت اپنے کاروبار یا دکانیں بند کر کے نماز جمعہ کے لیے مسجد چلے جاتے ہیں، لیکن نماز جمعہ کے بعد بھی اکثر دکانیں بند رکھیں جاتے ہیں اور اس دن کاروبار دوبارہ شروع نہیں کیا جاتا، گویا ہم دکان وغیرہ سے چھٹی کر لیتے ہیں۔
کیا نماز جمعہ کے بعد کاروبار پر واپس نہ جانا اور دکان بند رکھنا سورۃ الجمعہ کی آیات (9–11) کے حکم کے خلاف یا اس کی مخالفت ہے؟
یا پھر نماز کے بعد کاروبار کرنا صرف اجازت ہے، اور اس دن دکان بند رکھنے میں کوئی ممانعت نہیں؟
براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت اور درست فقہی موقف فراہم فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
صدام حسین گجر

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ آپ کو برکت دے۔
دیکھیں، وہ اذان جس کے بعد کاروبار ناجائز ہو جاتا ہے اور نماز کے لیے جانے کا حکم ہے “تجارت چھوڑ دو اور نماز کی طرف دوڑو” اس سے مراد وہ اذان ہے جس کے بعد خطبہ ہوتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں دو اذانیں ہوتی ہیں تو پہلی اذان مراد نہیں، بلکہ دوسری اذان ہے۔ اسی کے بعد کاروبار کرنا ناجائز ہے، بلکہ بعض علماء نے اسے حرام قرار دیا ہے اور یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔
البتہ کبھی کبھار ایسا ہو جانا تو غلطی کے درجے میں آتا ہے، لیکن اسے عادت بنا لینا درست نہیں؛ ایسی صورت میں کاروبار حرام ہو جائے گا اور نماز کے لیے جانا لازم ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نماز کے بعد جو فرمایا گیا:

“فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ”

یہ استحباب، ندب اور جواز کے لیے ہے، فرضیت کے درجے میں نہیں۔ اس کے بعد کوئی ممانعت نہیں؛ جو چاہے آرام کرے اور جو چاہے کاروبار کرے۔ دونوں صورتیں جائز ہیں، اور کوئی بھی چیز فرض کے درجے میں نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ