سوال (5513)

جمعہ کے دوسرے خطبہ کے لیے خطیب کھڑا ہوتا ہے اور کچھ وعظ و نصیحت کرتا ہے اور پھر نماز پڑھا دیتا ہے، اس نے دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہونے کے بعد بھی عربی خطبہ نہیں پڑھا تھا اور نہ ہی وعظ و نصیحت کے بعد بس ویسے ہی بات مکمل کرنے کے بعد سبحان ربک، یہ آیات پڑھ کر خطبہ ختم کر کے نماز پڑھا دی کیا ایسا کرنا درست ہے یا دوسرے خطبہ میں بھی عربی خطبہ ضرور پڑھا جائے گا، قرآن و حدیث کی روشنی میں راجح بات کی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دو خطبے ہوتے تھے، اور دونوں خطبوں میں آپ قرآن پڑھتے تھے اور نصیحت کرتے تھے۔ تو اب نصیحت ظاہر سی بات ہے کہ ہماری قومی (یعنی مقامی) زبان میں ہوگی، جس زبان کے لوگ ہوں گے۔ تو اگر کسی نے ایسا کیا ہے (یعنی قرآن کی تلاوت کے ساتھ مقامی زبان میں نصیحت کی ہے)، تو بس حق ادا ہو گیا، اور جمعہ کے دونوں خطبے مکمل ہو گئے، اور اس نے مسنون طریقے کو پا لیا۔ لہٰذا اس کا جمعہ درست ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ