سوال (6443)

جنبی شخص پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے تیمم کر کے نماز پڑھ لیتا ہے تو جب پانی کے استعمال پر قدرت پائے گا تو غسل جنابت کرے گا یا نہیں؟

جواب

تیمم غسل کے قائم مقام ہے۔

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوۡا‌ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضَىٰۤ اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا، المائدہ:6

اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔
لہذا اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے غسل کی بجائے تیمم کیا ہو یہی کفایت کرے گا۔ بعد میں غسل کرنا کوئی ضروری نہیں۔ تیمم کرنے کے بعد حالات جنابت شمار نہیں ہوگی۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

اگر وہ پانی پا لیتا ہے، کوئی خاطر خواہ وقفہ نہیں ہے، دو چار گھنٹے کی بات ہے، ظاہر سی بات ہے، جب پانی پر قدرت پائے گا، اس کو غسل بجا لانا ہوگا، ہماری رائے یہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ