سوال (6604)
مسند البزار، عمل اليوم والليلة لا بن السنی، الدعوات الكبير للامام البیهقی اور معجم کبیر للامام الطبرانی
حضرت سیدنا ابو رافع رضی الله عنه سے روایت ہے:
قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا طنت أذن أحدكم فليذكرني، وليصل علي، وليقل: ذكر الله بخير من ذكرني به،
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کان بجنے لگیں تو وہ مجھے یاد کرے اور مجھ پر درود پڑھے اور یوں کہے کہ جس نے مجھے بھلائی کے ساتھ یاد کیا ہے، اللہ اس کو بھلائی کے ساتھ یاد کرے۔ (مسند البزار، ج 09، ص 328، مطبوعہ قاهرة) (عمل الیوم واللة لا بن السنی، ج 01، ص 140، مطبوعہ بیروت) (الدعوات الكبير للامام البیعتی ، ج 02، ص 84، فراس للنشر والتوزيع الكويت) (المعجم الكبير للامام الطبرانی، ج 01، ص 321، مطبوعہ قاهرة)
امام زین الدین عبد الرؤوف بن تاج العارفين مناوی شافعی علیہ الرحمۃ تیسیر شرح جامع صغیر میں حدیث مذکور کی شرح میں لکھتے ہیں:
“(إذا طنت) أي صوتت ( أذن أحدكم أيها الأمة ( فليذكرني) بأن يقول محمد رسول الله أو نحو ذلك ( وليصل علي ) أي يقول صلى الله عليه وسلم أو اللهم صلى الله عليه وسلم على محمد أو نحو ذلك ( وليقل ذكر الله من ذكرني بخير)
ترجمہ: اے امت! جب تم میں سے کسی کے کان بجیں یعنی ان میں آوازیں آئیں تو اس کو چاہئے کہ وہ مجھے یاد کرے، اس طرح کہ وہ کہے محمد رسول اللہ یا اسی کی مثل دوسرے الفاظ اور چاہئے کہ مجھ پر درود پڑھے یعنی یوں کہے “صلی اللہ وسلم علیہ “یا “اللهم صل وسلم علی محمد “یا اسی کی مثل دوسرے الفاظ درود اور پھر کہے کہ جس نے مجھے بھلائی کے ساتھ یاد کیا، اللہ اس کو یاد فرمائے۔ (تیسیر شرح الجامع الصغیر، ج 1، ص 114 مكتبة الإمام الشافعي الرياض) اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے؟
جواب
الامام ابن باز رحمہ اللہ
هذا الحديث ليس له أصل، إذا طن الأذن، ليس له أصل، ولا يشرع عند طنينها شيء، لا ذكر النبي، ولا ذكر غيره، طنينها شيء عادي ليس له ذكر موضوع، ولا يشرع عنده ذكر، وليس لهذا الحديث أصل، وليس لهذا الحديث أصل، ” إذا طنت أذن أحد الذين” مكذوب، لا أصل له وليس هناك ذكر مشروع عند طنين الأذن، وفق الله الجميع. المقدم: اللهم آمين، جزاكم الله خيرا.
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع کے قریب ہے ایسی روایت ثقات حفاظ نے ہرگز بیان نہیں کی بلکہ ان لوگوں نے بیان کی جو ناقابل اعتبار غیر ثقہ ہیں۔
امام عقیلی نے کہا: ﻟﻴﺲ ﻟﻪ ﺃﺻﻞ،
اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
دیکھیے الضعفاء الكبير للعقيلى :4/104
اور دیکھیے الضعفاء الكبير للعقيلى:4/ 261
حافظ ابن جوزی نے کہا:
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، الموضوعات لابن الجوزی :3/ 76
مزید دیکھیے المجروحين لابن حبان: (925)، الکامل لابن عدی: 7/ 271، المقاصد الحسنة للسخاوي: (70)، الضعيفة للألبانى: (2631)، تذكرة الحفاظ لابن القيسراني: (68) اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ ﻓﻲ
اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ اﻟﻀﻌﻴﻔﺔ ﻭاﻟﺒﺎﻃﻠﺔ
ﻷﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ اﻟﺤﻮﻳﻨﻲ: (30)
یہ روایت سخت ضعیف غیر ثابت، غیر محفوظ ہے۔
البتہ درود شریف کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اسی طرح کان کی تکلیف وغیرہ کے لئے قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے ثابت مسنون ادعیہ و وظائف اور قرآن کریم کی کوئی سی آیت، سورہ فاتحہ کو پڑھے رب العالمین شفا دیں گے إن شاءالله الرحمن بلکہ درود شریف کثرت سے پڑھنے سے کئ تکالیف ختم ہو جاتی ہیں مگر یہ خاص روایت ثابت نہیں شروط صحت پر پورا نہیں اترتی ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




