سوال (5894)

جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وه پیدائش کے وقت مسلمان ہوتا۔ تو پھر چاہے وه غیر مسلم کے ہاں ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اگر غیر مسلم بچہ فوت ہوجائے تو اس کی نماز جنازه پڑھ سکتے ہیں یا نہیں اگر نہیں پڑھ سکتے تو اس کی دلیل چاہیے اس کے ساتھ اگر حوالہ بھی مل جائے تو بہتر ہوگا؟

جواب

کافر والدین کا نابالغ فوت ہونے والا بچہ دنیاوی احکام میں اپنے والدین کے تابع ہے۔
نہ اسکا جنازہ ہے نہ غسل اور نہ مقابرِ مسلمین میں تدفین۔
دلیل واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کفار کے کئی بچے فوت ہوئے لیکن آپ سے کسی کا جنازہ پڑھنا ثابت نہیں۔ اسی طرح بڑوں کے جنازے کا مقصد ان کی مغفرت کی دعا ہے اور چھوٹے بچوں کے جنازے کا مقصد ان کے والدین کے لیے فرط ذخیرہ اور رحمت کی دعا ہے۔
لیکن جب والدین کافر ہوں تو ان کے چھوٹے فوت ہونے والے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جائے گا کیونکہ یہ جنازہ اصل میں اس بچے کے والدین کے حق میں ہے اور والدین کافر ہیں۔
اب رہا مسئلہ مشرکین کے فوت ہو جانے والے بچوں کے اخروی معاملے کا تو وہ اللہ کے سپرد ہے۔
ان کے حوالے سے زیادہ تر فقہاء اور کبار علماء کا یہ موقف ہے کہ اللہ اعلم بما كانوا عاملين.
ان کے بارے میں قیامت کے دن اللہ کے علم کا ظہور ہوگا کہ جنہوں نے بلوغت کے بعد اسلام قبول کرنا تھا اللہ کو وہ بھی معلوم ہے اور جنہوں نے کفر پر ہی رہنا تھا اللہ کو وہ بھی معلوم ہے تو اللہ اپنے علم کے مطابق ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ارد گرد جنت میں مشرکین کے بچے بھی نبی علیہ السلام نے دیکھے جیسا کہ متفق علیہ حدیث ہے۔
تو ممکن ہے یہ مشرکین کے وہ بچے ہوں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم تھا کہ یہ بلوغت کے بعد اسلام قبول کرلیں گے۔
اور ایک قول کے مطابق اس حدیث کی روشنی میں مشرکین کے تمام بچے بلوغت سے قبل فوت ہونے والے جنتی ہیں۔
تو یہ مشرکین کے قبل از بلوغت فوت ہو جانے والے بچوں کا اخروی معاملہ ہے لیکن دنیاوی امور اور معاملات میں وہ اپنے مشرکین اور کفار والدین کے تابع ہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

یہاں شیخ ابن باز رحمة الله عليه سے پوچھے گئے سوال کا جواب نقل کئے دیتے ہیں۔

السؤال:هل أطفال النصارى واليهود وغيرهم، الأطفال الذين لم يبلغوا سن التمييز وماتوا، هل هم في الجنة، أم في النار؟
الجواب:سئل النبي ﷺ عن أولاد المشركين هذا سؤال قديم فقال: الله أعلم بما كانوا عاملين سئل عنهم النبي ﷺ فقال: الله أعلم بما كانوا عاملين.
قال العلماء على هذا الحديث: إن معناه أنهم يرجعون إلى علم الله فيهم يوم القيامة، ويمتحنون يوم القيامة، فمن أطاع الله يوم القيامة عند الامتحان؛ دخل الجنة، ومن عصى؛ دخل النار.
وهكذا أهل الفترة الذين ما بلغتهم دعوة الرسل، كانوا في أمكنة ما بلغتهم الدعوة، يمتحنون يوم القيامة، فمن أجاب إلى الأمر الذي طلب منه؛ صار إلى الجنة، ومن عصى؛ صار إلى النار.
وهكذا أشباههم ممن كان وقت الدعوة مخرفًا، يعني قد هرم، أو مجنونًا، أو غير ذلك، يمتحن يوم القيامة، فمن أجاب إلى الخير والهدى؛ دخل الجنة، ومن عصى؛ دخل النار، وهذا هو الذي قرره جمع من أهل العلم، ونبه عليه العلامة ابن القيم رحمه الله في آخر كتابه: (طريق الهجرتين) في مبحث، في آخر كتابه، سماه “طبقات المكلفين” وهو بحث، طيب من أراده وجده.
المقصود من هذا هو المعتمد: أن أولاد المشركين معهم في أحكام الدنيا، حكمهم حكم الدنيا، يدفنون معهم في الدنيا، ولا يغسلون، ولا يصلى عليهم إذا ماتوا، وهم بين أهلهم الكفرة، حكمهم حكمهم في الدنيا، قال النبي ﷺ لما سئل عنهم قال: هم منهم لما قال له رجل: يا رسول الله إنا نبيت المشركين، ونصيب من ذراريهم، ونسائهم؟ فقال: هم منهم يعني: شأنهم شأنهم، يدفنون معهم، ولا يغسلون، ولا يصلى عليهم، لكن يوم القيامة يمتحنون، فمن قبل ما أمر الله به يوم القيامة؛ دخل الجنة، ومن عصى؛ دخل النار.

(موقع شیخ ابن باز) اس میں جامع الفاظ میں شیخ نے آخر میں جو لکھا ہے۔

لكن يوم القيامة يمتحنون، فمن قبل ما أمر الله به يوم القيامة؛ دخل الجنة، ومن عصى؛ دخل النار.

یہ شیخ رحمة الله عليه کی کمال فھم وبصیرت پر دلالت کرتے ہیں۔
ناقل:

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ