کم عمری کی شادی کے حوالے سے عالم اسلام کے دو عظیم مفتیان کرام کا موقف
1 شیخ ابن باز رحمہ اللہ
جب سعودی عرب کے کسی رسالے میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کا قانون نشر کیا گیا جس میں اٹھارہ سال سے کم عمر شادی پہ پابندی لگائ گی اور اس پہ ایک ہزار سے پانچ ہزار درھم جرمانہ رکھا گیا تو مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اس قانون کا شدت سے رد کیا اور اس حوالے سے ایک مختصر مگر جامع موقف بیان کیا جو کہ آپ کے فتاوی کی جلد 4 میں درج ہے ۔آپ کے موقف کو اختصار سے درج ذیل نکات میں بیان کیا جاتا ہے
1 چونکہ امارات کا یہ قانون شریعت کے مخالف ہے اس لیے میں(ابن باز) بیان حق کے لیے تنبیہ کر رہا ہوں
2 شریعت میں شادی کی عمر کی کوی حدبندی نہیں ہے
3 کتاب وسنت دونوں میں بغیر کسی عمر کی قید کے نکاح پہ ابھارا گیا ہے
4 اس کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے چھوٹی عمر کے نکاح کی مشروعیت پہ شرعی دلائل ذکر کیے
5 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے چھوٹی عمر میں نکاح کرنا امت کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے
6 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی بغیر کسی عمر کی حد بندی کے نکاح کرتے اور کرواتے تھے
7 اس طرح کی قانون سازی شرعی قانون میں تغیر وتبدل ہے اور کسی حکومت یا انسان کی کوی حیثیت نہیں کہ وہ شرعی قانون کے خلاف قانون سازی کرے یا شرعی قانون میں تغیر وتبدل کرے
8 اس طرح کی خلاف شریعت قانون سازی کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ام لهم ڜركؤا شرعوا لهم من الدين ما لم ياذن به الله سورہ شوری (21)کیا ان کے لیے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسے احکام دین مقرر کر دیے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی
9 اس طرح کی خلاف شریعت قانون سازی بالکل مردود ہے
10 جو لوگ اس طرح کی قانون سازی کرتے ہیں میں انہیں اللہ تبارک وتعالی کے اس فرمان کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں فليحذر الذين يخالفون عن امره ان تصيبهم فتنة او يصيبهم عذاب اليم (سورۃ النور 63)سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ انہیں کوی فتنہ آ پہنچے یا دردناک عذاب آپہنچے
11امت مسلمہ کو آج انفرادی واجتماعی طور پہ جن مختلف مصائب ٬جنگوں اور پریشانیوں کا سامنا ہے اس کا بنیادی سبب مختلف انداز میں شریعت مطہرہ کی مخالفت ہے جس کی ایک صورت اس طرح کی قانون سازی بھی ہے
12 سابقہ امتوں نے جب جب شرعی احکامات کی مخالفت کی تو وہ ہلاکت وعذاب کا شکار ہوگے اس میں عقلمندوں کے لیے بہت بڑی عبرت ونصیحت ہے۔
13 اس طرح کی قانون سازی کے بعد یہ دعوی کافی نہیں ہے کہ ہم خلاف شریعت قانون سازی نہیں کرتے یا نہیں کریں گے۔بنی اسرائیل کی مذمت کرتے ہوے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ کیا تم کتاب کے بعض حصے پہ ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو؟؟
14میں علماء کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللہ سے ڈریں اور حکمرانوں کے سامنے بیان حق کا فریضہ انجام دیتے رہیں ۔انہیں حق کی اتباع کی دعوت دیں اور حق کی مخالفت سے ڈرائیں
15 اللہ ہم سب کو حق بات کہنے٬ اسے قبول کرنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اللہ تبارک وتعالی مسلمانوں کو ہدایت اور شریعت مطہرہ کو حاکم بنانے پہ جمع کرے آمین یارب العالمین
مجموع الفتاوی لابن باز (4/126)
2 شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا موقف
سعودی عرب کے حالیہ مفتی شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو شیخ صاحب نے شرعی ادلہ نقل کرنے کے بعد واضح کیا کہ کم عمری کی شادی کے جائز ہونے پہ اجماع ہے اور پھر اس کے بعد انہوں نے شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے اسی فتوی میں سے کچھ اقتباسات نقل کیے اور اس کی طرف مراجعت کا حکم دیا اور پھر شیخ واضح طور پہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کم عمری کی شادی کی مخالفت کر رہے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور شرعی احکامات کی مخالفت اور خلاف شریعت قانون سازی سے باز آجانا چاہیے کیونکہ حاکمیت اور شریعت سازی صرف اللہ تبارک وتعالی ہی کا حق ہے اور اس حق میں اللہ تبارک وتعالی کا کوی شریک نہیں۔
حنین قدوسی




