کسبِ حجام کی حقیقت

سوال     6679

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ شیخ محترم یہ ایک حدیث کی تھوڑی سی وضاحت چاہیے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی پاک نے فرمایا:

ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ

تو اس میں جو یہ ‘کسب الحجام خبیث’ ہے اس حوالے سے کیا ہے؟ یعنی سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے یا یعنی یہ کیا حساب؟ تھوڑی سی اس کی وضاحت فرما دیں یا حجام وغیرہ جو کرتا ہے حجامت اس کی؟ اس کی تھوڑی سی وضاحت چاہیے۔ جزاک اللہ

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مقام پر یہ نکتہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حدیث میں جو حجام کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد وہ حجام نہیں جو عام طور پر نائی کو کہا جاتا ہے، بلکہ اس سے مراد سینگی لگانے والا، یعنی حجامہ کرنے والا ہے۔ اسی لیے اس کی کمائی کو اس روایت میں خبیث کہا گیا ہے۔
آگے اسی حدیث میں دو اور چیزیں بھی اسی انداز میں ذکر ہوئی ہیں: «ثمنُ الکلب خبیث» اور «مَہرُ البغی خبیث»، اور یہ دونوں صراحتاً حرام ہیں۔
البتہ جب ہم دوسری روایات کو سامنے رکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خود حجامہ لگوایا اور ابو طیبہؓ کو آپ ﷺ نے اجرت بھی عطا فرمائی روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک تھیلی دی، جس میں درہم یا دینار تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جو حرمت بیان ہوئی ہے، وہ حرمتِ تحریمی نہیں بلکہ حرمتِ تنزیہی ہے، یعنی یہ خلافِ اولیٰ ہے۔
اس معنی کی روشنی میں یہ بات کہی جائے گی کہ حجامہ کو باقاعدہ کاروبار بنانا، اسے رواج دینا یا مستقل ذریعۂ آمدنی بنا لینا یہ سب امور تنزیہی حرمت کے دائرے میں آتے ہیں، یعنی ایسا کرنا بہتر نہیں، اگرچہ مطلقاً حرام بھی نہیں۔ ایک معنی تو اس حدیث کا یہ بنتا ہے۔
اور ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے—جیسا کہ بعض دوسری روایات اور قرائن سے اشارہ ملتا ہے کہ ہر شخص کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ بعض مخصوص لوگ ہی ہوتے ہیں جو ایسے کام کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شیخ الحدیث، مجتہدِ وقت یا امامِ وقت اس کام کو باقاعدہ اختیار کر لے تو یہ بات اپنے اندر ایک سوال رکھتی ہے۔ بہرحال، یہاں بات کچھ دوسری سمت چلی گئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ «كسبُ الحجام خبيث» میں جو حرمت آئی ہے وہ تنزیہی ہے، تحریمی نہیں، یعنی یہ خلافِ اولیٰ ہے۔ اور جب کوئی اور صورت نہ ہو، یا مجبوری درپیش ہو، تو پھر اس کی گنجائش موجود ہے—خصوصاً اس حدیث کی روشنی میں جس میں نبی کریم ﷺ نے خود حجامہ کروایا اور اس کی اجرت ادا فرمائی۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

ٹرینڈنگ

تبصرہ شامل کریں

متعلقہ پوسٹس