سوال       6729

رقم الحديث: 175
وَعَن أنس قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تصبح وتمسي لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِلٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ: «يَا بني وَذَلِكَ من سنتي وَمِن أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجِنَّة». [رَوَاهُ التَّرْمِذِي، مشكاة المصابيح، كتاب مشكاة المصابيح، الإيمان / حديث: 175،
تخريج الحديث: تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ” إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2678) وقال: هذا حديث حسن غريب.) فيه علي بن زيد بن جدعان وهو ضعيف]
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده ضعيف

السلام علیکم و رحمۃ اللہِ وبرکاتہ
اسکی کوئی صحیح سند بھی موجود ہے تو رہنمائی فرما دیں کئی اہلحدیث علماء یہ بیان کرتے ہیں؟
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا و الآخرہ

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ روایت تو ہمارے علم میں نہیں ہے یقیناً اس کی سند میں کلام ہے البتہ اس کا جو مفہوم ہے اس کے مطابق اہل علم بیان کرتے ہیں اس کا مفہوم کتاب و سنت کے تمام تر ادلہ اس کی حمایت کرتے ہیں دینِ اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کسی کی طرف سے کینہ اور حسد نہیں ہونا چاہیے دل کے اندر اس کو ختم کر دینا چاہیے اور یہ نبی علیہ السلام کا طرزِ عمل ہے اس میں کوئی شک نہیں اور جو نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے طرزِ عمل پر عمل کرے اس کا بیڑا پار ہو جائے گا یہی مراد ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام و رحمة الله وبركاته
یہ ایک طویل روایت ہے جیسا کہ امام ترمذی نے خود بتا دیا ہے، مگر سندا یہ ضعیف ہے۔
یہ روایت سنن ترمذی: 2678، مسند أبی یعلی: 3624، المعجم الأوسط للطبراني: 5991، المعجم الصغير: 856 وغیرہ میں ہے.
اسے مسند أبی یعلی کے محقق نے ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ ﺿﻌﻴﻒ ﺟﺪا مسند أبی یعلی : 3624 محدث البانی نے بھی ضعیف کہا مشکوۃ المصابیح:(175)ضعیف سنن ترمذی :(2831) ،ﺿﻌﻴﻒ اﻟﺠﺎﻣﻊ اﻟﺼﻐﻴﺮ 6389
امام ترمذی کا حسن غریب کہنا ضعف کی طرف اشارہ ہے
شیخ أبو اسحاق الحوینی رحمة الله عليه کہتے ہیں:

ﻭﺣﻘﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﺎﻝ فيه: ((ﻏﺮﻳﺐ)) ﻭاﻟﻤﺘﻦ ﻓﻴﻪ ﻧﻜﺎﺭﺓ ﻓﻲ ﻣﻮاﻗﻊ ﻣﻨﻪ ﻭﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺿﻌﻴﻒ؛ ﻟﺴﻮء ﺣﻔﻈﻪ.
ﻗﺎﻝ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ: ﻭﺫاﻛﺮﺕ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ- ﻳﻌﻨﻲ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ- ﻓﻠﻢ ﻳﻌﺮﻓﻪ
اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ ﻓﻲاﻷﺣﺎﺩﻳﺚ اﻟﻀﻌﻴﻔﺔ ﻭاﻟﺒﺎﻃﻠﺔ :(193) ﻷﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ اﻟﺤﻮﻳﻨﻲ

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر ایمان لانے میں آپ کی ذات وصفات وتعلیمات وارشادات پر ایمان لانا بھی ضروری اور اتباع سنت، محبت رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی جزا جنت اعلی ہے بس ہمیں صحیح احادیث ہی کو بیان کرنا چاہیے ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ