سوال       6702

يقول الإمام جرير الطبري (رضي الله عنه):
إِنَّ قِرَى الضَّيْفِ وَإِطْعَامَ الطَّعَامِ كَانَ مِنْ حَمِيدِ أَفْعَالِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَالإِسْلَامِ الَّتِي حَمِدَ اللَّهُ أَهْلَهَا عَلَيْهَا وَنَدَبَهُمْ إِلَيْهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ ذَلِكَ فِي عَصْرٍ مِنَ الْعُصُورِ، بَلْ نَدَبَ اللَّهُ عِبَادَهُ وَحَتَّهُمْ عَلَيْهِ. تفسیر الطبری (219/8)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے موقع پر یعنی نبی علیہ السلام کی تشریف آوری جس دن ہوئی اس دن لوگوں کو کھانا کھلانا یہ بہت زیادہ اجر کا باعث ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
دینِ اسلام نے ہمیشہ سے کھانا کھلانے کی ترغیب دی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بارہا فرمایا:

﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ (وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ) (أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ۞ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۞ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ)

اس سلسلے میں کسی کے آنے یا جانے کی تخصیص کے ساتھ دعویٰ کرنا بلا دلیل ہے اور صحیح نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، آپ یہ عمل کریں، لیکن اس کو کسی دن، رات یا شخصیت کے ساتھ مخصوص نہ کریں۔
اگر آپ کہیں کہ یہ عمل نبی ﷺ کے تشریف لانے پر شروع ہوا، تو اس کے لیے پھر خاص دلیل اور مخصوص عمل کی ضرورت ہوگی۔ شریعت نے یہ نیک عمل عام رکھا ہے، اس لیے آپ بھی اسے عام رکھیں۔
یاد رکھیں کہ انتظامی اور سہولتی پہلو الگ ہیں؛ آپ کسی دن یا وقت کو سہولت کے لیے منتخب کر سکتے ہیں، لیکن اسے تاریخوں یا مخصوص شخصیات کے ساتھ نہ باندھیں۔ شریعت نے ایک عمل کو عام رکھا ہے، لہٰذا آپ بھی اسے عام رکھیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ