سوال (6478)
کیا اس طرح نسبت کی جا سکتی ہے رحمانی غفاری وغیرہ اور اس کی دلیل کیا ہے؟
ابو ذر غفاری کا اگر کہا جائے وہ بھی غفاری غین کی زیر کے ساتھ ہے وہ بھی قبیلے کی طرف؛ خواہ یہ نسبت اس وجہ سے اصلا ہوتی کہ دادا کا نام عبد الغفار تھا تو آگے سب نے غفاری لگا دیا اور پہچان ہی یہ بن گئی۔
جواب
خاندان کی طرف نسبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، عربوں کے ہاں تعارف ہی خاندانوں سے ہوتا ہے، جیسا کہ شریم، حذیفی وغیرہ، یہ سب قبیلے ہیں، اس پر فخر نہیں ہونا چاہیے، اپنی قبیلے کی طرف نسبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ہم جامعہ اسلامیہ کے پڑھنے والے اپنے نام کے ساتھ مدنی رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: قبیلے کی طرف حرج نہیں، لیکن اللہ کے صفاتی ناموں کی طرف نسبت کرنا جیسے رحمانی کیا یہ جائز.
جواب: جی اللہ کی طرف نسبت کرنے میں کوئی حرج نہیں، ہمارے کئی علماء کے ناموں پر ربانی لگا ہوا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




