سوال (6460)
ہمارے کچھ مغربی فکر سے متاثرہ لوگوں میں خاندانی شادی (cousin marriage) کی عمومی مخالفت پائی جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بہن بھائیوں کے بچوں کی آپس میں شادیوں سے ان کی اولادوں میں خطرناک موروثی بیماریاں زیادہ جنم لیتی ہیں۔ مؤقف کے حق میں وہ چند حقیقی واقعات اور سائنسی تحقیقات بھی پیش کرتے ہیں۔
شریعتِ مطہرہ اس موضوع پر کیا راہنمائی کرتی ہے۔ جزاک اللّٰہُ خیرا
جواب
جتنی بھی شادیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، کیا اس کا تعلق موروثی شادیوں کے ساتھ ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جتنی بھی موروثی شادیاں ہوتی ہیں، کیا سب میں یہ بیماریاں ہوتی ہیں، یہ در اصل تصورات ہندؤں سے آئے ہیں، رہا یہ مسئلہ ہے کہ سائنس تصدیق کرتی ہے، تو سائنس کی تحقیقات دن بدن تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ایک بات ابھی ثابت کی ہے، ہو سکتا ہے کہ دو چار سال بعد اس کو غلط ثابت کردے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
باقی خاندان اور غیر خاندان دونوں میں شادی ہو سکتی ہے شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔
ممکن ہے بعض خاندانوں میں کسی مرض کے شکار لوگ ہوں مگر مطلقا ایسا کہنا غلط ہے۔
ہماری زیادہ شادیاں خاندان میں ہیں اور اسلام میں بدشگونی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




