سوال (5449)

کیا کھانے اور پینے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا لازمی ہے، کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ جو گھر والے کھانے پینے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوتے ہیں، ان کے گھر سے برکت ختم نہیں ہوتی ہے؟

جواب

برکتوں کو ہاتھ دھونے سے باندھ لینا یہ بلا دلیل ہے، کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا بندے کی صواب دید پر ہے، باقی کھانے کے بعد ہاتھوں کو چاٹنے کا ذکر ملتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: اس گھر سے کبھی خیر ختم نہیں ہوتی جس گھر میں کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوئے جائیں، ایسی کوئی حدیث ہے؟

جواب: یہ بات ثابت نہیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ضَعِيفٌ، [ابوداود: 3761]

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے سے پہلے وضو کر لینا باعث برکت ہوتا ہے۔ میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کھانے کی برکت وضو میں ہے کہ کھانے سے پہلے کیا جائے اور بعد میں بھی۔

قیس بن الربیع، ضعیف راوی ہے۔

سندہ, ضعیف

کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا ذکر ملتا ہے حدیث میں۔

(شرح الستہ اللبغوی: 34/2، حدیث :266، صححہ الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ)

کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھو لیے جائیں۔ اچھا عمل ہے۔ لیکن اسے برکت کے ساتھ منسوب کرنا صحیح نہیں۔ اور ناہی کسی صحیح حدیث میں کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا صراحتا ذکر ہے۔

البتہ اگر ہاتھوں میں کھانے کے بعد چکناہٹ وغیرہ لگی ہو تو اسے سونے سے پہلے صاف کرنے کی ترغیب تو موجود ہے۔ [ابن ماجہ: 3297]

ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ