سوال 7013

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
معزز شیوخ عظام وضاحت مطلوب ہے کہ درج ذیل روایت میں سوال نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَلْيَأْكُلْ، وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ، وَإِنْ سَقَاهُ مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ

ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ مسلمان اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے تو وہ کھالے اور اس سے اس کھانے کے متعلق سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو پی لے اور اس سے اس کے متعلق سوال نہ کرے
[Al-Silsila: 234]

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سوال سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کے کھانے، پینے کے متعلق سوال نہ کریں۔ کہ یہ کھانا حلال طریقے اور ذرائع سے آیا ہے یا حرام ذرائع سے۔ اس قسم کے سوال نہ کریں۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جب دوسرے بھائی کے بارے میں حسنِ ظن ہو تو پھر سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ جب ایسا معاملہ نہ ہو تو پھر اس کھلانے اور پلانے والے سے ضرور سوال کرنا چاہیے کہ یہ کھانا حلال ہے، حرام تو نہیں۔
اس طرح پینے کے متعلق بھی یہی ہے۔

فضیلۃ الباحث عثمان زید حفظہ اللہ