سوال 6715
عن أنس بن مالك عنه عن النبي ﷺ (أنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِماً»)قال قتادة: فقلنا فالأكل، فقال: ذاك أشر، أوْ أحْبَث. [صحيح مسلم 2024]
اس روایت کی وضاحت مطلوب ہے؟
جواب
اس مسئلہ کی تمام احادیث وآثار کی روشنی میں کھڑے ہو کرنے پانی پینے کی ممانعت سے مراد مکروہ تحریمی نہیں ہے، بلکہ مکروہ تنزیہی ہے اور کھڑے کر پانی پینا جائز ہے، البتہ بیٹھ کر پینا افضل ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



