سوال       6862

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مشائخ کرام
کیا یہ جملہ درست ہے کہ خدا ایک ہے سارے زمانے میں؟

جواب

کسی جملے کے بارے میں حکم لگانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہنے والے کا مقصود کیا ہے۔ جب تک اس کی مراد واضح نہ ہو، اس جملے کے بارے میں توقف اختیار کرنا چاہیے۔
لفظ “خدا” کے استعمال سے حتی الوسع اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ اگرچہ اس باب میں ہم کوئی سختی نہیں پاتے، لیکن جب لفظ “اللہ” موجود ہے تو اسی کا استعمال کرنا چاہیے۔
بہر حال، اس جملے میں کہنے والے کی نیت اور مقصود کو دیکھا جائے گا۔ وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟ کیا وہ اس سے وحدت الوجود کا عقیدہ کشید کرنا چاہتا ہے؟ وحدت الشہود کا عقیدہ نکالنا چاہتا ہے؟ یا حلول کا عقیدہ مراد ہے؟ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟
یا پھر وہ وہی معنی لینا چاہتا ہے جو قرآن میں آیا ہے کہ وہی آسمانوں میں معبود ہے اور وہی زمین میں معبود ہے یعنی اللہ ایک ہی ہے۔

“هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ”

اگر وہ یہ معنی مراد لے رہا ہے تو پھر کوئی اشکال نہیں، کیونکہ اللہ تو ایک ہی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ