سوال 6711
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
ہمارے کچھ کولیگس آفس میں مسلمان ہیلپرز کو چھوڑ کر ہندو سوئیپر (جو ٹوائلٹ صاف کرتے ہیں) سے چائے وغیرہ بنواتے ہیں اور برتن دھلواتے ہیں۔ تو قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا یہ طرز عمل کیسا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حرج تو کوئی نہیں ہے، ظاہر سی بات ہے کہ ان کے ہاتھ میں تو کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اس طرزِ عمل کی کوئی واضح وجہ یا منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ ایسے لوگوں کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے۔
آپ کو چاہیے کہ اپنے خدام کے معاملے میں بھی مسلمانوں ہی کو ترجیح دیں۔ دلائل بھی یہی کہتے ہیں، فہم بھی اسی کی رہنمائی کرتا ہے، اور مسلمانوں کا عمومی طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے کہ خدام کے اندر بھی مسلمانوں کو ہی ترجیح دی جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کفار کو ملازم رکھنا، ان کا پکایا کھانا، ان کے عام استعمال کے برتنوں کو بوقت ضرورت استعمال کرلینا اس کا جواز ہے کوئی حرج نہیں۔
جس طرح بخاری میں مشرکہ عورت کے مشکیزے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تھا۔ (بخاری# 344)
اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے ایسے برتن جن میں نجاست وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو، ان کا استعمال بغیر کسی تردد و تذبذب کے جائز اور درست ہے۔ (بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/ صفحہ نمبر: 20)
البتہ ترغیب اسی چیز کی ہونی چاہیے کہ مسلمان چونکہ طہارت، صفائی نفاست کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اس لیے انہی سے کھانا تیار کروا لیا جائے۔ اس سے اہل ایمان کے لیے ملازمت، معاش کے بھی بہتر وسائل میسر آئیں گے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ



