سوال          6908

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک سوال پوچھنا تھا وہ یہ ہے کہ ادھر ہمارے قریبی لوگ ہیں، محلے دار ہیں تو ان کا ایک مسئلہ درپیش آیا ہے انہوں نے چند ماہ پہلے اپنے بیٹے کی شادی کی تھی اور شادی کے چند ماہ بعد انہیں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ وہ جو عورت تھی جس عورت سے انہوں نے شادی کی تھی اس لڑکے کی ان کی اولاد نہیں ہوئی تو اب ڈاکٹرز سے جب چیک اپ کروایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ نام مرد ہے، نہ عورت ہے، اس چیز کا علم بعد میں ہوا ہے تو میرا سوال یہ ہے مفتی صاحب کہ کیا یہ نکاح جائز ہے اسلامی اور ہمارا نقطہ نظر کیا ہے اسلام شریعت اس کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے تو اس کے بارے میں تھوڑا بتا دیجیے گا۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، اس کی تین صورتیں ہوتی ہیں:
ایک صورت یہ ہے کہ وہ خنثیٰ مشکل ہو اہلِ علم اس اصطلاح کو جانتے ہیں۔ خنثیٰ اور مخنث میں فرق ہے، اور خنثیٰ مشکل وہ ہے جس کی جنس واضح طور پر متعین نہ ہو سکے۔ اگر معاملہ خنثیٰ مشکل کا ہے تو یہ نکاح باطل ہوگا، اور قانونی طور پر اسے فسخ کر دیا جائے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ خنثیٰ تو ہو، لیکن اس کے اعضاء اور وضع قطع مردانہ ہوں۔ ایسی صورت میں بھی نکاح باطل ہوگا، کیونکہ مرد کا مرد سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ نکاح بھی فسخ اور باطل قرار پائے گا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ وہ خنثیٰ ہو، مگر اس کے اعضاء عورتوں کی طرح ہوں۔ ایسی حالت میں اس پر عورت کا حکم لگے گا۔ پھر نکاح درست ہوگا، اور اگر لڑکا اسے رکھنا چاہے تو نکاح برقرار رہ سکتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ