سوال (6517)
بعض مساجد کے ذمہ داران بڑے اور مشہور خطباء کو خطبہ یا تقاریر کے لیے بلاتے ہیں، ان کا آنے جانے کا ٹکٹ رہائش، اچھا کھانا پینا، لفافہ وغیرہ سب کچھ کرتے ہیں حالانکہ وہ خطباء پہلے ہی مالی طور پر بہت مستحکم ہوتے ہیں، دوسری جانب چھوٹے اور غیر معروف عالم اگر کہیں درس یا خطبے کے لیے جائیں ان کی تکریم نہیں ھوتی یا برائے نام ھوتی ہے کبھی تو اپنا خرچہ وہ خود ہی کرتے ہیں، حالانکہ دونوں ہی قرآن وحدیث بیان کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات غیر معروف عالم کی تقریر زیادہ خشوع و خشیت پر مبنی ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ فرق کب تک رہے گا؟ ہم لوگ شخصیت کے بجائے علم کی قدر کیوں نہیں کرتے، جونئیر کو بھی خوب پذیرائی دینی چاہیے کہ وہ بھی ترقی کرے۔آپ حضرات کی رائے میں حل کیا ہونا چاہیے؟
جواب
اس صورت حال پر کنٹرول صرف علاقے کے جماعتی معتبر ذمداران اور مسجد ومرکز کی کمیٹی والے افراد ہی کر سکتے ہیں۔ ان سب کو تربیتی نشست میں ایک منہج و اصول اور دعوت دین میں داعی کے اوصاف معیار پر کبار مشایخ کے ذریعے سمجھانے اور بتانے کی اشد ضرورت ہے۔
علم اور حقیقی علماء کرام کی قدر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ہم جیسے طلبا کو دروس میں دعوت دینی چاہیے ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
میرے نزدیک اس کا یہ حل ہے کہ تجار کے بچوں کو عالم بنایا جائے، ہماری طرح کی نوکریاں دی جائیں، سب کچھ صحیح ہو جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




