سوال 6988
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ !
کیا المیزان پینشن فنڈ میں پیسے رکھنا جائز ہے؟
1: اس فنڈ میں آپ ایک مخصوص رقم ہر سال جمع کرواتے ہیں؟ جس پر آپ کو سالانہ فیصدی تناسب سے منافع ملتا ہے۔
2: آپ کو 60 سال کی عمر میں (50%) رقم بغیر ٹیکس کٹوتی واپس مل جائے گی اور بقیہ نصف رقم اگلے دس سال میں آپ کی پسند کی قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔
3: آپ کی آمدنی کا جتنا فیصد آپ سالانہ جمع کروائیں گے؟ حکومت کی طرف سے اتنا فیصد آپ کو ٹیکس میں چھوٹ ملے گی مثلا اگر آپ اپنی سالانہ آمدنی (50 لاکھ) کا 20 فیصد (10 لاکھ) جمع کروائیں گے تو آپ کا انکم ٹیکس بھی 20 فیصد (تقریبا ساڑھے تین لاکھ) کم ہوگا۔
4: عموما تنخواہ دار طبقہ کے لوگ آخری عمر کی پینشن کی سہولت سے زیادہ موجودہ ٹیکس میں آسانی حاصل کرنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس میں دو باتیں ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف میزان کی بحث ہے کہ میزان ایک سودی ادارہ ہے، یعنی یہاں میزان بینک کی بات ہو رہی ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ گورنمنٹ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ یہ بھی ایک اہم ایشو ہے، جس پر غور کرنا چاہیے۔
لہٰذا معاملہ شبہ سے بالاتر دکھائی نہیں دیتا۔ اور عمومی طور پر لوگ آپ کے پیسے سے کوئی حقیقی کاروبار نہیں کرتے، چاہے دعویٰ کچھ بھی کیا جائے۔ ممکن ہے کوئی واقعی کاروبار کر بھی لے، لیکن عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ اسے سود در سود کے نظام میں چلایا جاتا ہے۔
بس آپ کو مطمئن کیا جاتا ہے کہ آپ ڈائریکٹر ہیں، آپ کا کردار یہ ہے، وہ ہے مگر حقیقت میں معاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔
اس لیے ایسے تمام معاملات سے اپنے دامن کو بچا کر رکھنا چاہیے۔ کم از کم ہم جو بات کریں گے، وہ یہی ہے جو پہلے بھی عرض کی گئی کہ شبہ واقعی موجود ہے۔
اور ہر شبہ میں پڑنا درست نہیں ہوتا۔ خاص طور پر کھانے پینے اور کاروبار کے معاملات میں شبہ کو ترک کیا جاتا ہے۔ کیونکہ شبہ میں واقع ہونا، حرام میں واقع ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اہلِ علم، مشائخ اور علماء اس بات کو خوب جانتے ہیں اور احادیثِ مبارکہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



