سوال 7018
کیا ‘علیہ السلام’ کا لفظ صرف انبیاء کرام کےلئے خاص ہے؟ دلیل سے بتائیں۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
صلوٰۃ اور سلام کو اہلِ علم کے اتفاق سے انبیاء اور ملائکہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ اگرچہ دوسروں کے لیے ان الفاظ کے استعمال پر کوئی سخت ممانعت نہیں ہے، تاہم اہلِ سنت والجماعت، بالخصوص اصحابُ الحدیث کا رجحان یہی ہے کہ اسے انبیاء اور ملائکہ کے ساتھ خاص رکھا جائے۔
البتہ اگر کبھی کسی اور کے لیے یہ الفاظ استعمال ہو جائیں تو اس میں کوئی سختی نہیں، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: اللهم صل على آل أبي أوفى۔ لہٰذا صلوٰۃ کا جو حکم ہے وہی سلام کا بھی ہے، لیکن دوسروں کے لیے اس کو رواج دینا مناسب نہیں۔
فرق یہ ہے کہ کبھی اتفاقاً استعمال ہو جانا ایک الگ بات ہے، جبکہ اسے مستقل شعار اور معمول بنا لینا دوسری بات ہے، جس سے اہلِ علم نے منع کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اہلِ تشیع (روافض) نے اہلِ بیت اطہار کے ساتھ اس کو بطورِ شعار اور پہچان اختیار کر لیا ہے، اس لیے اہلِ سنت نے اس میں احتیاط کو اختیار کیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



