سوال (133)
کیا عقیقہ کرنے کے لیے کسی بڑے جانور کے اندر ایک سے زائد حصہ رکھ سکتے ہیں، جیسا کہ قربانی میں کیا جاتا ہے؟
جواب
بطور عقیقہ چھوٹا جانور ذبح کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ”. [ابوداؤد: 2842]
’’لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابر، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری‘‘۔
عقیقہ میں بڑا جانور یعنی گائے یا اونٹ وغیرہ ذبح کرنے کے بارے میں اہلِ علم میں تھوڑا اختلاف ہے۔
[الموسوعة الفقهية الكويتية:30/279]
البتہ سنت پر اکتفا کرتے ہوئے بکرا وغیرہ ہی کیا جائے، تو بہتر ہے۔
لیکن اگر بڑا جانور کیا جائے تو اس میں قربانی کی طرح حصے رکھنا درست نہیں، کیونکہ اشتراک (مختلف لوگوں کا ایک جانور میں شریک ہونا) قربانی کی طرح دیگر چيزوں میں ثابت نہیں! بلکہ ہر بچے کی طرف ایک مستقل جانور کیا جائے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سوال: شیخ صاحب! عقیقہ کے بارے میں رہنمائی کریں کہ کیا لڑکے کا عقیقہ گائے پر ہو جاتا ہے یا بکرا ہی ذبح کرنا ضروری ہے؟ نیز کیا لڑکے کے عقیقے میں دو خون بہانے کا حکم ہے، یا گائے میں حصہ ڈالنے سے عقیقہ ہو جاتا ہے؟ جزاک اللہ۔
جواب: اولیٰ، افضل اور مسنون طریقہ یہی ہے کہ عقیقہ چھوٹے جانور میں کیا جائے، یعنی دنبہ، دنبی، مینڈا، مینڈی، بکرا، بکری یا بھیڑ۔ یہی طریقہ بہتر اور راجح ہے۔ لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور کیا جائے۔
البتہ اگر کسی نے گائے میں عقیقہ کر لیا ہو تو اسے دہرانے کا ہم حکم نہیں دیتے، کیونکہ جمہور اہلِ علم اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس پہلو سے اتنی سختی نہیں پائی جاتی کہ عقیقہ دوبارہ کرنے کا کہا جائے، تاہم بہتر، افضل اور مسنون یہی ہے کہ عقیقہ چھوٹے جانور میں کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




