سوال (6413)
کیا بیعت کا اصل مقصد تزکیہ نفس اور اصلاح دین نہیں؟ اگر بیعت کا تعلق تزکیہ سے ہے تو کیا کسی دنیوی عہدے یا منصب رکھنے والے کے ہاتھ پر بیعت کے الفاظ کہنا شرعی اور مناسب ہیں؟
جواب
اپنی اپنی اصطلاحات ہیں، سب سے پہلے بیعت جو ہے، وہ خلیفہ وقت کی ہوتی ہے، موجودہ بیعت بدعت ہے، شرعی خلیفہ جو کل مسلمانوں کا خلیفہ ہو، وہی خلافت کا حقدار ہوگا، اس کے ہی ہاتھ پر بیعت ہوگی، تنظیموں کے بھی اپنے سلسلے ہیں، یہ کوئی شرعی جماعتیں نہیں ہیں، جن کے لیے بیعت ہو، اگر شرعی خلیفہ کی بیعت ہوگی تو اس میں سمع و اطاعت ہے، سب کچھ اس میں ہے، تزکیہ بھی ہے، تعلیم و تربیت ہے، نیکی کی اشاعت بھی ہے، برائی کا روک تھام بھی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: آرمی چیف کے سامنے ایک مولانا نے یہ الفاظ بولے تھے کہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں
اس بابت کیا فرمائیں گے؟
جواب: صرف کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، یہ الفاظ ہمارے ہاں اس لیے استعمال ہوتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ وغیرہ جس بیعت پر اعتبار کرتے تو کیا وہ اس میں شامل ہندوستان میں رہتے ہوئے نیکی پر بیعت اور برائی نہیں کریں گے کیا یہ عہد اور مناسب چیز نہیں ہے؟
جواب: شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ چلے گئے ہیں، ان کی ایک سوچ و فکر تھی، وہ سیکھ ازم کے خلاف کمر بستہ ہوئے تھے، مگر وہ بھی سو فیصد تو امارت کا قیام نہیں تھا، اگر دیانت سے دیکھا جائے، اگر بیعت ہے، اس کا تعلق امارت و خلافت سے ہو، اگر شرعی ہو، یہ نہیں ہے کہ انسان نیکی پر آمادہ نہ ہو، برائی سے نہ روکے، اس کے لیے بیعت ضروری نہیں، اس کے لیے مسجد و مدرسہ اور جماعت کی ضرورت نہیں ہے، لیکن شریعت میں بیعت کی بحث جو ہے، وہ خلافت و امارت کے ساتھ ہے، باقی لغوی طور پر کہہ لیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




