سوال 6966

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ کیا بیوہ عورت بھی فطرانہ ادا کرے گی اس کے بچے ابھی چھوٹے چھوٹے ہیں
اس کے شوہر کے بڑے بھائی نے بھی فطرانہ ان کو دیا ہے یہ خیال رکھتے ہوئے کہ پہلے عزیز و اقارب کو دیکھنا چاہیے اب بھائی کا سوال ہے کہ قریبی رشتے دار بھی ہیں یتیم بھی ہیں مسکین بھی ہیں اب آیا کہ وہ بیوہ عورت اپنا اور اپنے بچوں کا فطرانہ ادا کریں گے
وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
فطرانہ کے لیے زکوٰۃ کی طرح کوئی نصاب نہیں لہذا سب پر ادا کرنا فرض ہے
صدقہ الفطر پر مسلمان پر فرض ہے۔ [بخاری: 1503]
حتی کہ غلام پر بھی فرض ہے۔ [مسلم: 982]
لہذا بلا تخصیص ہر امیر غریب ادا کرے۔
غریب مسکین شخص کو لوگ جو فطرانہ ادا کریں گے اس میں سے ادا کرسکتا ہے۔
لیکن اگر بالکل ہی استطاعت نہیں تو یہ عذر کی صورت ہے۔ وہ ادا نہ کرے۔
[البقرہ: 286]

لا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا.
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

جی ہاں، اگر مسکین ہوں اور اتنا ان کو فطرانہ یا زکوٰۃ وغیرہ مل جائے کہ دو چار دن کا جمع ہو جائے تو پھر ان کو فطرانہ دینا چاہیے، اگر انہیں اندازہ ہے کہ نہیں ہم ادا نہیں کر سکیں گے اور ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ بمشکل گزارے کے قابل ہے تو پھر ٹھیک ہے

“لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا”

البتہ ترغیب دی جائے گی اب دو چار دن کا جمع ہو گیا ہے تو ان کو دے دینا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ