سوال 7026

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ویسے ہی جنت میں بیجھ سکتا ہے، مگر یہودیوں کو اور عیسائیوں کو مسلمانوں کے گناہوں کا کفارہ کیوں بنائے گا [صحیح مسلم 2767]
اس کا عقلی جواب چاہیے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة اللہ وبرکاتہ!
دیکھیے، بنیادی بات یہ ہے کہ دین کو سمجھنے اور کسی بات سے دلیل لینے کا اصل معیار صرف قرآن و سنت ہی ہیں۔ چاہے ہمیں کسی مسئلے کی عقلی وجہ سمجھ آئے یا نہ آئے، جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح حکم موجود ہو تو وہی ہمارے لیے حرفِ آخر ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔” اب یہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ یہ جو مختلف مذاہب (جیسے یہودی، عیسائی، ہندو یا مجوسی وغیرہ) اپنے کفر پر قائم ہیں، کیا یہ سب صرف اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی گہری عقلی یا علمی وجہ بھی ہے؟
اس حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ ان سب باتوں کا مقصد حق کا انکار کرنے والوں کی حسرت اور ندامت کو مزید بڑھانا ہے۔ جیسے قرآن میں ایک جگہ (طنزاً) فرمایا گیا: “چکھو اس کا مزہ! تم تو خود کو بڑے عزت والے اور معزز سمجھتے تھے۔” اسی طرح سورہ الحجر میں ذکر ہے کہ کافر اپنے انجام کو دیکھ کر بار بار یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ قیامت کے دن کفار کی شرمندگی اور ان کے پچھتاوے کو مزید گہرا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنا عدل اور جلال ظاہر فرمائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

یہود و نصاری دنیا میں مسلمانوں کے دشمن رہے اور ان کو نقصان پہنچاتے رہے۔ اس نقصان مصیبت آزمائش پر مسلمانوں کے صبر کیا اور ان کا مقابلہ کیا جہاد کیا۔ اس کا بدلہ بھی ہو سکتا۔ باقی اللہ علی کل شیء قدیر ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ