سوال (5681)
کیا غیر مسلم عامل مسلمان کا روحانی علاج کر سکتا ہے؟
جواب
مسلمانوں کی نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے، تو پھر غیر مسلم عامل سے علاج کروایا جا سکتا ہے، پھر وہ پڑھائی قرآن و سنت کے مطابق کرے، اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کچھ شرائط کے ساتھ دیگر مسالک کے علماء کے فتوے بھی جواز کے ہیں۔کیونکہ بعض صحابہ کے دم اس وقت کہ وہ غیر مسلم تھے یعنی اسلام سے قبل کیے جانے والے دم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے باقی رکھے بس یہ شرط لگادی کہ شرک نہ ہو(صحیح مسلم)، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت ہے غیر مسلم سے علاج کے حوالے سے۔
جواب: پیارے بھائی اسکی سند مل سکتی ہے، جی یہ صحیح مسلم کی ہے مگر اس میں مسلمان کے لئے جاہلیت والے دم کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
سائل:
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ، [صحیح مسلم حدیث نمبر: 5732]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو، دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔
جواب: جی پیارے بھائی یہ مجھے علم ہے میں نے دوسری کافر کے دم والی روایت کا پوچھا تھا یہ مسلمان کے دم کرنے کی تائید ہے الفاظ چاہئے زمانہ جاہلیت کے ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا
دیکھیں پیارے بھائی جب تک صحیح سند کے ساتھ روایت نہیں ملتی مجھے اسکو قبول کرنے میں تردد ہے وجہ اوپر بتائی ہے کہ پھر تو ظاہر لحاظ سے تو ذکر کی محافل کرنے والوں کو بھی سکون ملتا ہے اور وہ اسکو سنت بھی نہیں کہ رہے ہوتے ہیں وہ بھی اسکو اپنا نیا طریقہ بتا رہے ہوتے ہیں یعنی روحانی طریقہ جس سے ہمارا روحانی علاج ہوتا ہے تو انکی بات ہم نہیں مانتے ہیں اس لئے مجھے اشکال ہو رہا ہے چلیں خیر آپ کا شکریہ۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
سائل: اس میں بھی تائید ہی ہے جاہلیت والے دم کی الا یہ کہ اس میں شرک نہیں ہو۔
جواب: جی پیارے بھائی اوپر میں نے مانا ہے کہ جاہلیت والے الفاظ کی تائید ہے کافر سے دم کروانے کی تائید نہیں ہے کیونکہ جنہوں نے پوچھا تھا وہ مسلمان تھے، اور وہ مسلمان الفاظ جاہلیت والے استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
استاد محترم جیسا کہ عمرؓ کو وفات نبی ﷺ پہ حیرت ہوئی تھی کیونکہ انکو نص یاد نہیں رہی تھی جسکی ابوبکڑؓ نے وضاحت کی تھی واللہ مجھے بھی اس پہ حیرت ہوئی کہ غیر مسلم ہندو عیسائی عامل سے بھی روحانی علاج کروایا جا سکتا ہے شیخ محترم اس پہ کوئی صریح نص موجود ہے؟
شیخ محترم مجھے اشکال یہ ہے کہ علاج دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ما ظاہری اسباب کے ماتحت علاج اور دوسرا ظاہری اسباب سے ماورا علاج۔ پس جو ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہیں وہ ظاہری اسباب کے ماتحت علاج ہوتا ہے۔ لیکن جو روحانی علاج ہوتا ہے اس میں ظاہری اسباب کوئی نہیں ہوتے، اس لئے اسکا نام ہی روحانی علاج رکھا گیا ہے۔ اب روحانی علاج تو اللہ کی طرف سے ہی ہو سکتا ہے اور اسکی وحی کے تحت ہی ہو سکتا ہے اسکی سمجھ نہیں آئی کہ غیر مسلم روح کا علاج کر سکتا ہے تو محفل ذکر منعقد کرنے والے بھی اگر یہ سمجھیں کہ ہم یہ روحانی علاج کر رہے ہیں اور اسکے لئے کوئی سنت کی نص کی ضرورت نہیں ہے تو ہم انکو کیسے ذکر کی محافل کرنے سے منع کر سکتے ہیں کیونکہ وہ محافل والے یہ کبھی نہیں کہتے کہ ہم یہ سنت کام کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا آزمایا ہوا نسخہ ہے جس سے ہماری روح کھل جاتی ہے اور ہم اللہ کے فرماں بردار بن جاتے ہیں۔
اسی لئے استاد محترم پوچھا تھا کہ اس پہ کوئی صریح نص بھی ہو گی۔ جزاکم اللہ خیرا
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
عرب و عجم کے فتاویٰ جات میں یہ بات بہت پہلے سے موجود ہے، لنک ملاحظہ ہو۔
https://share.google/A9vTQXJ4Yd6mpouIQ
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: یہ مسلمان کا کسی غیر مسلم کو دم کرنا ہے؟
جواب: چاروں ائمہ میں سے دو قائل ہیں، بس شرط ایک ہی ہے کہ شرک نہ ہو، وہ دم واضح اور صریح الفاظ کے ساتھ ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
جی شیخ محترم آپ نے جو اب فتاوی شیئر کیے ہیں اس میں واقعی یہ لکھا ہوا ہے
البتہ میں اب جس نتیجے پہ پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ فتوی میں جو لکھا ہوا ہے کہ مسلم کے کسی غیر مسلم کو دم کرنے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے یعنی یہ متفق علیہ چیز ہے۔
البتہ دوسرا جو فتوی ہے اس پہ جواز کے فتاوی موجود ہیں البتہ لا خلاف والا فتوی نہیں ہے، جزاکم اللہ خیرا آپ نے بہترین طریقے سے بات سمجھا دی ہے۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
مسلمان غیر مسلم کے پاس جائے وہ بھی روحانی علاج کے لیے تو ایسے مسلمان کو اپنا اسلام چیک کرنا چاہیے، اللہ سے ڈرے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرے، مسنون اذکار کا اہتمام کرے، سورۃ فاتحہ مسلمان کے پاس ہے غیر مسلم تو اس کا انکاری ہے۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سائل: کچھ شرائط کے ساتھ دیگر مسالک کے علماء کے فتوے بھی جواز کے ہیں۔ کیونکہ بعض صحابہ کے دم اس وقت کہ وہ غیر مسلم تھے یعنی اسلام سے قبل کیے جانے والے دم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے باقی رکھے بس یہ شرط لگادی کہ شرک نہ ہو،(صحیح مسلم)
جواب: دیگر مسالک کو قابل اعتبار سمجھتے ہیں؟
وہ دم میں پڑھنے والی چیزوں سے متعلق بات ہے، دونوں میں بہت فرق ہے اسے مدنظر رکھیں۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
اس کا الزام صرف غرباء پہ نہیں دیا جائے، کسی کے بارے میں دو ٹوک لکھ کے کوئی نہیں دے سکتا ہے، جامعہ اسلامیہ سے جو پڑھ کر آتے ہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ چاروں مذہب حق ہیں تو پھر ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: وہاں تو فقہ المقارن تعلیم کا حصہ ہے؟
جواب: جی شیخ، بجا فرمایا ہے، ہمارے ہاں بھی کچھ کتابیں پڑھائی جاتی ہے، جیسے ہدایہ وغیرہ، لیکن وہ اس کا اثر دل و دماغ پر حاوی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ فقہی حنفی پر اعتراض جائز ہے، باقی پر جائز نہیں ہے۔ یہ دیانت نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




