سوال (6232)
کیا گھر میں اذان دینا حدیث سے ثابت ہے؟
1) گھر میں اذان دینا عام شیطانی اثرات سے حفاظت کے لیے جائز ہے۔
اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو عموم کے ساتھ کہتی ہے کہ جہاں اذان ہو وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔
حدیث: نبی ﷺ نے فرمایا: “جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے…”
صحیح بخاری: 608، صحیح مسلم: 389
اس حدیث میں مسجد یا گھر کی کوئی قید نہیں ہے۔اذان جہاں بھی دی جائے، اثر وہی ہوگا۔
اسی لیے محدثین کہتے ہیں کہ
عموم حدیث کے مطابق کسی جگہ بھی اذان دی جائے وہاں شیطان دور ہو جاتا ہے۔
2) نبی ﷺ کا اپنا عمل گھر میں اذان دینا
ثبوت: نبی ﷺ نے ایک بچے کے کان میں اذان دی تھی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “نبی ﷺ نے امِ سلیم کے بچے کے دائیں کان میں اذان دی۔”
سنن ابوداود: 5105، صحیح الاسناد
یہ واقعہ گھر کے اندر ہوا تھا، مسجد میں نہیں۔ یعنی گھر میں اذان دینا کوئی غیر شرعی عمل نہیں، بلکہ ثابت ہے۔
3) اذان کا مقصد صرف نماز کی دعوت نہیں ہوتا
فقہاء نے لکھا: اذان اعلانِ توحید ہے، شیطان کو بھگاتی ہے، برکت لاتی ہے،
اسی لیے بیماری، ڈر، خوف یا پریشانی میں اذان دینا مستحب ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
“جنات کو اذان سخت ناپسند ہے اور وہ اذان سے بھاگتے ہیں۔”
— زادالمعاد
نتیجہ (بالکل صاف جملوں میں):
مسجد کی اذان نماز کے لیے ہے۔
گھر میں اذان دینا بھی جائز ہے — اور اس کی دو دلیلیں ہیں۔
1. صحیح حدیث: اذان سے شیطان بھاگتا ہے، بغیر کسی مقام کی قید کے۔
2. نبی ﷺ کا گھر میں اذان دینا: بچے کے کان میں۔
لہٰذا اگر کوئی خوف، بے سکونی، بچوں کو ڈر، یا گھر میں عجیب فضا ہو تو گھر میں اذان دینا بالکل صحیح، سنت سے ثابت اور جائز ہے۔
جواب
کوئی شخص جن وغیرہ دیکھ لے تو اذان دے سکتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت سے صحابی کا عمل ملتا ہے۔
اسی طرح بطور رقیہ بھی گھر میں مریض پر اذان پڑھی جاسکتی ہے۔
نومولود کے کان میں اذان کا مسئلہ بھی ہے۔ واللہ اعلم
لیکن ہر آفت یا مصیبت کے وقت گھروں میں باقاعدہ اذان دینا محل نظر ہے۔
درج بالا تحریر میں حوالوں اور حدیث کی غلطیاں ہیں۔ غالباً چیٹ جی پی ٹی کی تحریر ہے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ




