سوال 6997

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر کسی کے پاس حرام مال ہو تو کیا وہ کسی اور کو صدقہ میں دے سکتا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مالِ حرام سے صدقہ نہیں ہوتا، کیونکہ

“إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا” اور “ولا صدقة من غلول”

یعنی خیانت اور حرام کا مال اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔
اگر ایسا پیسہ کہیں سے اتفاقی طور پر آ جائے تو بغیر کسی نیت اور ارادے کے اسے کسی غیر مسلم کو دے دیا جائے، بشرطیکہ وہ محارب اور جنگجو نہ ہو اور اس سے کوئی فتنہ برپا نہ ہو۔
یا اگر کوئی شخص سود کی لعنت میں مبتلا رہا ہو اور اب سچی توبہ کر چکا ہو اور اپنے اوپر موجود بوجھ کو اتارنا چاہتا ہو جو سود پر مبنی ہے، تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ پکی اور سچی توبہ کر چکا ہو، ایسا نہ ہو کہ وہ ادھر سے بھی لے لے، ادھر سے بھی لے لے، اور اس کی دکان اسی طرح چلتی رہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ