سوال (5885)

کیا حسن لغیرہ فضائل کی طرح احکام میں بھی حجت ہے؟ کیا ترک رفع الیدین والی حدیث جو جامع ترمذی میں ہے وہ حسن لغیرہ ہے؟

جواب

گزارش یہ ہے کہ یہ جو ایک عذر تلاش کیا جاتا ہے کہ ‘ترکِ رفعِ یدین’ والی سنن ترمذی کی حدیث ‘حسن لغیرہ’ ہے، تو یہ جس نے بھی کہا، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ امام ترمذی بذاتِ خود فرما رہے ہیں کہ ‘و حدیثُ ابنِ مسعود لم یثبت’ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث ثابت نہیں ہے۔
دوسری چیز جو یہاں سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ یقینی طور پر اگر آپ نے یہ بحث چھیڑی ہے تو میں اس حوالے سے آپ کو سمجھانا چاہوں گا،
آپ نے مراتبُ الصحیح تو پڑھے ہوں گے، اور مراتبُ الصحیح میں سب سے اعلیٰ درجے کی جو روایات ہیں، ان کا تعلق صحیحین کے ساتھ ہے، یعنی یا دونوں (بخاری و مسلم) کے ساتھ، یا کسی ایک کے ساتھ۔
اب وہ جو صحیحین میں روایات آئی ہیں، ان کے مقابلے میں اگر زبردستی کر کے ترمذی کی روایت کو ‘حسن لغیرہ’ مان بھی لیا جائے، تو اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
دوسری بات جو سب سے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جو قائلین ہیں ‘ترکِ رفعِ یدین’ کے، ان کے نزدیک رفعِ یدین منسوخ ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں۔
اگر وہ کہیں کہ منسوخ ہے، تو اس حدیث کا نَسخ ثابت نہیں ہوتا، اور اگر وہ کہیں کہ یہ حدیث سرے سے ہے ہی نہیں، تو پھر صحیحین سمیت دیگر کتب میں جو پونے چار سو روایات ہیں رفعِ یدین کی، تو ان کو ہم کس خانے میں ڈالیں گے؟”

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

1۔ اگر وجہ ضعف علت خفیفہ ہو تو ضعیف روایات مل کر حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔ یہ موقف راجح نہیں۔
جتنی بھی اسناد ہوں ان میں سے کوئی سند اگر حسن لذاتہ درجہ کی نہیں تو وہ حجت نہیں، نا اعمال میں، نا فضائل میں نا ہی عقیدہ میں۔
2۔ حسن لغیرہ کی حجیت کے قالین والے اصول کے مطابق بھی ترمذی کی روایت قابل حجت نہیں۔ آئمہ علل کی جرح ہے۔

حَدَّثَنَا هنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ *عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَصَلَّی فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، [ترمذی:257]

علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح صلاۃ نہ پڑھاؤں؟ توانہوں نے صلاۃ پڑھائی اورصرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے.
سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے روایت کررہے سماع کی تصریح ثابت نہیں۔ سندہ،ضعیف
اس روایت پر محدثین کی جرح بھی موجود ہے:
امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:

لَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ”نبی اکرم ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ اپنے ددنوں ہاتھ اٹھائے” والی ثابت نہیں ہے (تحت الحدیث،ترمزی:356)
اسی روایت کے نیچے امام ابوداؤد خود فرماتے ہیں:

لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے۔ (ابوداود تحت الحدیث: 748)

اسی طرح علل کے آئمہ، امام دارقطنی،امام ابوحاتم الرازی نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے،اسے خطا و غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
بلاشبہ اتنی واضح جرح کے باوجود اس روایت کے ضعف کو نا ماننے والا کوئی آئمہ محدثین کا دشمن ہی ہوگا۔ جو محدثین کے منہج سے انحراف کرتا ہے۔
تنبیہ: ترک رفع الیدین پر ایک روایت بھی باسند صحیح ثابت نہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

ترک رفع الیدین کی کوئی روایت حسن لغیرہ کے مرتبہ کی نہیں ہے بلکہ سب معلول ومنکر ہیں اور صحیح متواتر احادیث کے مخالف ہیں جو صحت کے اعلی معیار پر ہیں اور جنہیں بیان کرنے والے ثقات حفاظ ہیں۔
بارك الله فيكم وعافاكم! حسن لغیرہ کے بارے میں ائمہ محدثین وعلل قرائن سے فیصلہ کرتے تھے یعنی وہ نہ وہ مطلقا قبول کرتے تھے نہ ہی مطلقا رد کرتے تھے۔
حسن لذاتہ روایت بھی احکام میں مطلقا حجت نہیں ہے اسے بھی کبھی ائمہ علل ونقاد قرائن کے ساتھ رد کر دیتے تھے البتہ اغلبا ایسی روایت حجت ہی ہوتی ہے۔
فضائل ورقائق وزھد وآداب وسیر میں ائمہ محدثین کی شروط احکام کی مرویات کی طرح سخت نہیں تھیں بلکہ وہ اس باب کی روایات میں تساہل سے کام لیتے تھے۔
مثلا راوی اگر صدوق ہے اور کثرت سے غلطیاں کرتا ،وھم کا شکار ہوتا ہے تو اس کی روایت کو وہ فضائل ورقائق وزھد وآداب میں قبول کرتے تھے۔
دیکھیے تقدمة الجرح والتعديل وغيره

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ