سوال (6422)
کیا ہنڈی کا کاروبار حلال ہے سعودی عرب دوبئی میں ان سے ریال لے کر کرنسی کا تبادلہ کرتے ہیں اگر حکومت ریال 80 روپے کا لیتی ہے تو ہنڈی والے حضرات اس اجنبی سے وہی ریال 75 روپے میں لیتے ہیں کیا یہ حلال ہے اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
جواب
ہنڈی کا کاروبار جائز نہیں کیونکہ اس میں پہلی قباحت اولی الامر یعنی حکومت کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ قانونی جائز نہیں ہے۔
دوسری قباحت جس میں اکثر اوقات سود (ربا)، دھوکہ یا غیر قانونی منافع شامل ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ آپ نے ذکر بھی کیا ہے۔
جہاں تک سوال ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو یہ مشائخ سے دریافت کیا جا سکتا ہے.
فضیلۃ الشیخ فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
عقیدہ درست ہے، سنت کے مطابق نماز پڑھاتا ہے تو نماز ہو جائے گی، لیکن مستقل ایسے لوگوں کو امام نہیں بنانا چاہیے، اچھے لوگوں کو امام بنانا چاہیے، جس کا کام اور عمل صحیح ہے، باقی نماز اس کی بھی ہو جاتی ہے، اس کے پیچھے بھی ہو جاتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




